پولیس رولز


پولیس رولز
با ب نمبر 1ہیت ترکیبی
 باب ۱-۱   ہیت ترکیبی: (Contitution)
 (الف)   صوبائی پولیس ڈسٹرکٹ اور (ب)  حذف ہوا۔ 
                تمام اہلیان پولیس خواہ کسی رتبہ کے ہوں جو صوبے میں کام پر لگائے جائیں زیر دفعہ 2ایکٹ مذکور مقرر یا بھرتی کیے جاتے ہیں۔    
باب 2-1  انسپکٹر جنرل  (Inspector General)
                 انسپکٹر جنرل پولیس جماعت کمان، نظم و ضبط اور انتظام کا ذمہ دار ہے۔وہ تمام صوبائی گورنمنٹ کو صلاح مشورہ دینے کا ذمہ دار ہے۔ انسپکٹر جنرل کی مدد اتنی تعداد میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل، ڈپٹی انسپکٹر جنرل اور اسٹنٹ انسپکٹر جنرل صاحبان کرتے ہیں جو وقتاََ فوقتاََ صوبائی گورنمنٹ مقرر کرے۔

باب 5 
باب 10-5:  سرکاری بائیسیکلوں کی تقسیم:    
    (۱)  محکمہ پولیس کے استعمال کے لئے ضلعوں کو حسب ضرورت مقررہ نمونہ کے سرکاری بئیسکل دئے جاتے ہیں۔ صدر مقام کا لائن افسر اور افسران مہتمم تھانہ جات کے محررروں کا فرض ہے کہ وہ بائیسیکلوں کی گمشدگی یا نقصان رسی کے تمام وقوعوں کی رپورٹ کریں۔  چونکہ بائیسکل سازو سامان پولیس کا جزو ہیں اس لیئے ایسے وقوعوں کی رپورٹ ہونے پر اسی ضابطہ پر عملدرآمد کیا جائے گا جو قاعدہ نمبر (2)4-5  میں بیان کیا گیا ہے۔
                (2)  تمام ماتحتان ادنی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بائسیکلوں کے استعمال اور ان کی مناسب خبر گیری سے اچھی طرح واقف ہو گشت تعمیل سمن اور یغام رسانی وغیرہ کے فرائض کی انجام دہی میں جن بائسیکلوں کے استعمال سے وقت کی بچت ہو۔
باب 6  اسلحہ و گولی بارود
باب 10-6:  اسلحہ کی حراست و خبر گیری 
       (1)تمام اسلحہ جو زیر استعمال نہ ہوں اسلحہ خانہ یا کسی دوسری مقررہ جگہ میں کوتوں میں رکھے جائیں گے۔
لائن میں کوت ہیڈ کنسٹیبل لائن افسر کی براہ راست اور ذاتی نگرانی میں اور تھانہ جات میں محرر تھانہ زیر نگرانی افسر انطارج تھانہ اور دیگر مقامات میں دستے کا کمان افسر خود تمام اسلحہ زیر تحویل کی حفاظت و خبر گیری اور ان کی تمام آمدو تقسیم درستگی کا براہ راست ذمہ دار ہوگا۔
     (2)   ہر کوئی پولیس افسر جس پر ہتھیار تقسیم ہو وہ خود ذمہ دار ہے کہ استعمال سے پہلے اور بعد میں اسے صاف کرے ۔ اور جو اسلحہ زیر استعمال نہ ہو اور کوتوں میں ہو تو ان کی صفائی کا کام مشقی ٹولیاں کریں گی جو اس پر لگائے جائے گا۔ تمام رائفلوں اور بندوقوں کے ”پل آف“ کا سالانہ امتحان کیا جائے گا۔
    (3)   ہر ایک پولیس افسر ہتھیار کی اور اس کی اشیاء کی جو اسے دی گئی ہو حفاظت وخبر گیری کا بذات خود ذمہ دار ہوگا۔ جب تک وہ کوتوں وغیرہ کو واپس نہ کردے۔
     ضمیمہ نمبر (2)10-6  فائر کرنے سے پہلے اور بعد مسکٹس بی ایل اعشاریہ 410بور کی صفائی
ہدایات اشیاء مطلوبہ:
پل تھرو برائے اعشاریہ 303اسلحہ:ایک فی مسکٹ  گازوائز(1-1/2 x 4)           ایک فی مسکٹ
بوتلیں (تیل کے لیے)                     ایک فی مسکٹ                    سٹک کلیننگ چیمبر:                          ایک عدد چھ مسکٹوں کیلئے
تیل لوبری کیٹنگ جی ایس     دو گیلن ایک صد مسکٹ کیلئے       فلالین         11 1/4گزفی مسکٹ                     
سامان صفائی:      پل تھرو بندوق کے بٹ ٹریپ یعنی کندے کے رخنے میں رکھا جائے گا۔ اس میں تین حلقے یا سوراخ ہیں۔ پہلا وائر گاز کے لئے ہے۔ دوسرا فلالین کیلئے اور تیسرا پلتھرو کو باہر نکالنے کیلئے۔ اگر پل تھرو کھبی نالی میں ٹوٹ جائے یا پھنس جائے تو رکاوٹ کو رفع کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ بندوق کو فوراََ آرمورر کے پاس لے جانا چاہیے۔
فلالین:       فائر کے بعد نالی کو صاف کرنے کیلئے فلالین کے علاوہ کوئی چیز استعمال نہ کریں۔فلالین کی 4انچ ٹکڑا استعمال کریں اور اس کو پل تھرو کے دوسرے سوراخ میں ڈال کر ڈور کے گرد لپیٹ لیا جائے گا۔ فلالین کا چھوٹا ٹکڑا استعمال کیا جائے گا جب اس میں تیل لگایا جائے کیونکہ بڑے ٹکڑے سے نالی کے اندر جانے سے تیل اُتر جاتی ہے۔
وائر گاز:    صرف چھرہ دار کارتوس چلانے کے بعد میل زنگ اتارنے کی ضرورت ہو تو وائر گاز کے 1 1/2 x 4  ٹکڑے استعمال کریں  لیکن وہ بھی صرف افسر کی اجازت سے۔
    (1)  وائر گاز کو اس طرح تہہ کرلو کہ لمبی اطراف کے انگریزی حرف ایس   (S)   سے مشابہ ہوجائے۔
  (2)   پل تھرو کا پہلا سوراخ کھول کر اور اس کا ایک سرا 'S'  کے ہر ایک سوراخ میں ڈال لو۔
   (3)  پھر اس گاز کے ہر ایک آدھے حصے کو ڈور کراس حصے پر جہاں وہ رکھا ہوا ہے لپیٹو۔ حتی کہ دونوں ہی لپیٹے ہوئے مل جائیں۔ استعمال کرنے سے پہلے گاز کو خوب تیل لگا دے اور احتیاط کریں کہ تار نالی کو نہ کھرچے۔ گاز کو نالی میں پھنس کر آنا چاہیے اور اس مطلب کے لیے اس پر کوئی فلالین کا ٹکڑا یا کوئی اور نرم شے باندھ لینی چاہیے۔ گاز وائر کو پل تھرو پر لگا نہیں رہنے دیا جائے گا۔
تیل:  جب نوکری پر تیل ساتھ لے جانا ہو تو تیل کی کُپی کے رخنہ میں رکھ لیا جاتا ہے۔ کسی قسم کی چرب ساز یا روغنی شے بور میں لگی رہنے نہیں دی جائے گی۔ پیرافین زنگ کو رفع کرسکتا ہے مگر اسے روک نہیں سکتا۔
سٹک کلیننگ چیمبر:  قریباََ ایک فٹ لمبا لکڑی کا بنا ہوتا ہے ایک سرے پر شگاف اور دوسرے پر مربع نما دستہ بنا ہوگا ہے سٹک بولٹ کے راستہ سے چیمبر میں داخل کیا جاتا ہے اور اسے کئی دفعہ گھمایا جاتا ہے۔ چیمبر صاف کرنے کا یہی ایک موثر طریقہ ہے۔
صاف کرنا فائر سے پہلے:  نالی سے تیل کا نام ونشان بالکل مٹا دیا جائے گا۔
فائر کرنے کے بعد: 
    (1)بولٹ کو نکالیں۔ 
    (2)  قریباََ دو سوا دو سیر ابلتا ہوا پانی اس کی نالی کا سرا چیمبر میں ڈال کرپہنے دیں۔
   (3)  پل تھرو کو بولٹ والے سوراخ سے گزار کر خوب صاف کریں،اس عمل کو دہرائے حتیٰ کہ چیتھڑا بالکل بے داغ نکلنے لگے۔ رائفل کو بائیں ہاتھ سے پکڑ کر بٹ کا نچلا سرا زمین پر لگا دو اور نالی کشید کی سمت سیدھ میں ہو تاکہ ڈور مزل کے کناروں سے نہ لگے اس کو ڈور کی گھساوٹ کہتے ہیں۔اس سے رائفل کی نشانہ مندی میں فرق آتا ہے۔
   (4)  مذکورہ بالا ہدایت نمبر 3  میں بیان کردہ عمل کو دوہرایا جائے گا۔ حتٰی کہ چیتڑا بالکل بے داغ نکلے۔
   (5)  بریچ کو سٹک کلیننگ چیمبر کے ساتھ صاف کرو
   (6)   بولٹ کی بیرونی سطح اور گیس اسکیپ، سنگین کو صاف کریں۔
   (7)  اگر فائر کرتے وقت سنگین رائفل پر لگی رہی ہو تو درمیان میں ڈالنے سے پہلے اسے احتیاط سے پونچھ کر صاف کیا جائے گا۔تمام دھات کو خوب پونچھ کر ان پر تیل لگایا جائے گا۔
   (8)  ایک فلالین کے ٹکڑے پر تیل لگا کر اس کو نالی میں سے کھینچ کر گزارلیا جائے گا۔
فائرنگ کی تین دن بعد تک نالی کی خاص احتیاط کرنی چاہیے۔ چھرہ دار کارتوس فائر کرنے کے بعد یا جب کھبی سیسے کے داغ یا زنگ اتارنے کی ضرورت ہو حسب ہدایت مذکورہ بالا طریقے سے صاف کریں۔
                پل تھر و کے ساتھ روغن آلود گاز وائر لگاؤ۔ او رسیدھا کھینچو حتیٰ کہ بریچ میں سے داخل کیا ہواپل تھرو مزل سے باہر آئے۔ اس کے بعد خشک فلالین کا ٹکڑا بیچ میں گزار کر حسب معمول روغن آلود ٹکڑا گزاردو۔
ہدایات بابت صاف کرنے اعشاریہ 303رائفل:
   الف):    (1)  پل تھرو کو بریچ میں ڈال کر مسلسل کشید کے ساتھ مزل کے راسے سے نکالا جائے گا۔
    (2)  ڈور کو سیدھا کھینچنا ہوگا تاکہ نالی کے مزل سے رگڑ نہ کھائے اس رگڑ کو ڈور کی گھساوٹ کہتے ہیں۔ اس سے نشانہ میں فرق آتا ہے۔
   ب) :  فلالین کے سوا اور کوئی چیز بور کو صاف کرنے کیلئے استعمال نہیں کی جائے گی۔ فائر کرنے کے بعد رائفل کو صاف کرنے کے لیے فلالین کا 4  انچ لمبا اور 2انچ چوڑا جو خوب پھنس کر بیچ میں پورا آئے استعمال کرنا چاہئے۔  نالی کے اندر تیل لگانے کیلئے اس سے ذراکم فلالین کا ٹکڑا استعمال کیا جائے گا۔ بڑے ٹکڑے سے تیل اُتر جاتا ہے۔
   ج):   سٹک کلیننگ ایک فٹ لمبر لکڑی کا ٹکڑا ہوتا ہے۔ فلالین کا خشک ٹکڑا شگاف میں پھنسا کر گز پر لپیٹ لیا جاتا ہے تاکہ گز ڈھک جائے پھر گز کو بولٹ کے راستے سے چیمبر میں داخل کرکے کئی دفعہ گھمایا جاتا ہے۔
   د):   وائر گاز تال کی جالی 2 1/2  انچ لمبے  1  1/2  انچ چوڑے ٹکڑے مہیا کیے گئے ہیں لیکن انہیں صرف میل کے سخت داغ یا زنگ اتار نے کے لیے استعمال کیا جائے گا اور وہ بھی صرف افسر کی اجازت سے۔
روزانہ صفائی:   
     رائفل کی بیرونی سطح روزانہ صاف کی جائے گی۔ گیس اسکیپوں اور درزوں سے گرد اور میل صاف کی جائیں گے۔رگڑ والے حصے پر تیل اور فلالین کا ٹکڑا نالی میں سے بار بار گزارا جائے۔
فائر کرنے سے پیشتر کی صفائی:
    بور سے تیل کا نام ونشان بالکل مٹایا جائے گا اور متحرک حصہ کو روغن آلود کیا جائے گا۔ کارتوس یا چیمبر میں ہر گز تیل نہیں لگایا جائے گا اور نہ ہی کوئی روغنی شے اخراج کی سہولت کیلئے استعمال کی جائے گی کیونکہ اس سے رائفل کو نقصان پہنچتا ہے۔
فائر کرنے کے بعد کی صفائی:
     ۱۔  نالی کے اندر سے تمام داغ اور چکناہٹ بالکل اتاردو۔
    ۲۔ دو سواسیر ابلتا ہوا پانی بریچ کی راہ سے نالی میں ڈال دو تاکہ میل اندر سے ختم ہوجائے۔
    ۳۔  بور کو خوب خشک کرلو اور ٹھنڈا ہونے دو اور تب تک باقی حصے صاف کرلو۔
   ۴۔  بریچ کو چیمبر کلیننگ سٹک کے ساتھ صاف کیا جائے گا۔
   ۵۔  بولٹ کی سطح گیس اسکیپوں اور سنگین کے بوس کو خص توجہ سے صاف کیا جائے۔
   ۶۔  اگر فائر کرتے وقت سنگین ساتھ لگی رہی ہو تو اسے میان میں ڈالنے سے پہلے احتیاط سے پونچھ لیا جائے۔
    ۷۔   تمام دھات کے حصوں کو خوب پونچھ کر ان میں تیل لگا دیا جائے گا پھر فلالین کا روغن آلود ٹکڑا نالی کے اندر سے گزارا جائے گا۔
    ۸۔   جنگ کے موقع پر جہاں اُبلتا ہوا پانی نہ مل سکے وائرگاز استعمال کیا جائے گا۔
   ۹۔   احتیاط رہے کہ رائفل کا براؤننگ (زنگ)  گھس کر اتر نہ جائے کیونکہ یہ زنگ کو روکنے کیلئے ایک بڑا ذریعہ ہے۔
شلکی فائر کرنے کے بعد کی صفائی:
     شلکی کارتوس فائر کرنے کے بعد خاص احتیاط سے بخوبی رائفل کی صفائی کی جائے گی۔ اس لیے کہ ان میں گولی چلنے کی رگڑ گھسٹ بور کے ساتھ نہیں ہوتی اس وجہ سے بہت زیادہ میل، داغ، دھبے، اور فالتو میل نالی میں جمع رہتا ہے۔ اور اکثر حالتوں میں فائر زیادہ دیر تک رہتا ہے اور بالعموم زیادہ طویل وقفہ کے بعد رائفل کو اچھی طرح صاف کیا جاسکتا ہے جب گولی دار کارتوس چلانے کی مشق سے پہلے شلکی کارتوس چلائے گئے ہوں تو گولی دار کارتوسوں کی مشق شروع کرنے سے پیشتر رائفلوں کو خوب احتیاط سے صاف کیا جائے۔
رائفل کی خبر گیری کے متعلق عام ہدایات:  
 (الف)  جب رائفل استعمال نہ کی جارہی ہو تو بیک سائیٹ کے لیف اور سلائیڈ نیچے کرنا چاہئے۔
   (ب)  جب رائفل بھری ہوئی نہ ہوتو  مین سپرنگ کو ہر گز دبا ہوا نہیں رہنے دینا چاہئے۔
    (ج)  رائفل سے میگزین صرف صفائی کے وقت نکال لیں اور ضرورت کے وقت اس میں کارتوس رکھیں تاکہ اس کا سپرنگ کمزور نہ ہوجائے
   (د)   رائفل کی بولٹ ادل بدل نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ہر رائفل کی پرزے ایک جیسی فٹ نہیں ہوتے اور یہ دوسرے رائفل میں درست طور فٹ نہیں ہوگا۔
    (ہ)  کسی ہیڈکنسٹیبل یا کنسٹیبل کو متحرک پرزے کو کھولنے یا پرزہ پرزہ کرنے کی اجازت نہیں ہے سوائے اس کی صفائی کی طریقہ کے اور کسی پیچ کو نہ کھولیں گے۔


باب 14   انضباط وطرزِ عمل
باب 1-14   کمان وتقدم۔
   ۱۔   کمان وتقدم عہدیدار اور سپیشل گریڈ کنندگان کریں گے جسے دوسروں سے عہدے میں فوقیت ہو۔
   ۲۔   جو افسران قائم مقام آسامیوں پر مامور ہوں وہ ان آسامیوں کا عہدہ و فوقیت محض عرصہ مقامی تک اختیار کرتے ہیں۔واپسی پر ان کی فوقیت اس منزلت کے لحاظ سے ہوگی جو انہیں مستقل عہدہ میں حاصل ہے۔ سپیشل درجہ کے افسران ان تمام ہم عہدہ افسران پر فوقیت رکھتے ہیں۔ جو اوقاتی پیمانہ میں ہوں اور آپس میں ان کی فوقیت اس تقدم پر مبنی ہوتی ہے۔ جو انہیں سپیشل گریڈ میں حاصل ہے۔ جو افسران کسی عہدہ میں آزمائشی طور پر خواہ پراہ راست یا بذریعہ ترقی مقرر کیے جائیں ان کی فوقیت مراتب بالآخر اس عہدہ میں مستقل ہونے کی تاریخ کے لحاث سے قرار پاتی ہے۔ اور اگر کئی تقرریاں ایک ہی تاریخ کے  گزٹ میں شائع ہوں تو پہل ترقی یا فتہ افسر اپنے عرصہ ملازمت کے لحاظ سے سینئر شمار ہوں گے اور ان کے بعد براہ راست مقرر شدہ افسر بلحاظ عمرکے سینئر ہوں گے۔ اوقاتی پیمانہ میں جو ہم عہدہ افسر زیادہ تنخواہ پاتا ہوگا وہ انضباط کے مقاصد کیلئے کم تنخواہ پانے والے ہم عہدہ افسر سے متقدم شمار ہوگا لیکن کسی عہدہ کا زیر آزمائش افسر اسی عہدہ کے مستقل افسر سے فائق نہیں سمجھا جائے گا۔ خواہ وہ قائم مقامی کی ملازم تک طوالت کی وجہ سے زیا دہ تنخواہ ہی کیوں نہ پارہا ہو۔
باب 2-14   سلام
 افسران پولیس ہدایت مندرجہ باب 4پولیس ڈرل مینوئل پنچاب  1929ء  کے سلام کیا کریں گے۔
    (الف)   ہیڈ کنسٹیبل سے بالا عہدہ کے تمام پولیس افسران مستحق ہیں کہ اُن سے کم عہدہ کے پولیس انہیں سلام کریں۔
     (ب)  تمام عہدوں کے پولیس افسران جب وردی پہنے ہوئے ہو صدر پاکستان،گورنر صوبہ پنجاب اور وزراء کو سلوٹ کریں گے۔
     (ج)   و  (د)  کے سلوٹ کریں گے۔ انجمن ہائے و اضعین قوانین کے پریذیڈنٹوں اور ڈپٹی پریذیڈنٹوں کی بھی دوران اجلاس انجمن متعلقہ اور سرکاری تقریبات پر ویسی ہی تعظیم و تکریم کی جائے گی۔ افسران پولیس گزٹ شدہ کو لازم ہے کہ جب وہ وردی پہنے ہوئے کسی اعلیٰ سول افسر یا افسران افواج بحری، بری و ہوائی سے جو ان سے عہدہ میں بالاتر ہوں مخاطب ہوں یا بالا تر عہدہ کے افسران مذکو ران سے مخطب ہوں تو ان کو سلوٹ کریں غیر گزٹ شدہ افسران بالا تر عہدہ افسران کو سلوٹ کریں گے۔  اور تمام سیول  اسسٹنٹ کمشنر یا اس سے بالا تر عہدہ پر یا ان کے ہم رتبہ ہوں جب وہ ان سے یا یہ ان سے مخاطب ہوں تو ان کو سلوٹ کریں گے۔ ہیڈکنسٹیبلان اور کنسٹیبلان تمام گزٹ شدہ سول افسران کو سلام کریں گے۔  جب کوئی پولیس افسر باوردی عدالت برسراجلاس ہو تو عدالتی افسر کو سلوٹ کرے گا۔
   (ج)  تمام پولیس افسران پریڈ پر ہوں یا سرگاری تقریبات پر قطار میں تعینات ہوں اور ان کے پاس سے کوئی ایسے افسران گزریں جو ان کی سلامی کے حقدار ہوں تو ان کو سلوٹ نہیں کریں گے
   (د)  باوجود کسی امر مندرجہ ہدایت سابقہ کے کوئی پولیس افسر بلحاظ عہدہ جو ٹریفک کی نوکری یا دیگر اسی قسم کی کامل توجہ طلب نوکریوں پر مامور ہو وہ کسی سلامی کے حقدار شخص ایسے پولیس افسر سے مخاطب ہو۔
    (2)   حذف ہوا۔
باب  4-14   عوام میں طرزِعمل۔
     (۱)  ہر ایک پولیس افسر کو لازم ہیں کہ اپنے مزاج کو پورے طور پر قابو میں رکھے اور تمام مواقع پر خوش خلقی سے کام لے۔ 
     (۲)  ہر ایک پولیس افسر اپنا بچاؤ کرتے ہوئے کم ترین تشدد سے کام لے گا۔
     (۳)  بالعموم فرائض کی انجام دہی میں افسران پولیس انفرادی طور پر کام کرتے ہیں لہذٰ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جمعیت پولیس کی شہرت نیز یہ امر کہ عوام کا قانون کی پابندی کرنے والا طبقہ کہاں تک قانون شکن شخص
کے خلاف تعاون پر آمادہ ہوگا ہر ایک شخص کے طرز عمل پر منحصر ہے۔
باب 9-14:  ترسیل عرض داشت: 
      قواعد وآداب ترسیل عرض داشت بخدمت گورنمنٹ آف پاکستان امور داخلہ کے نوٹیفیکیشن میں دئیے گئے ہیں۔ جن کی نقول صاحب انسپکٹر جنرل کی تحریر ظہری کے ساتھ تمام افسران پولیس کو بھیجی گئی تھیں۔
باب 10-14   اردلی روم:۔ (Orderly room)
     ہر ایک ضلع میں ہفتہ میں ایک بار یا اگر ضرورت پڑے تو زیادہ با ر  سپرنٹنڈنٹ یا اس کا مقرر کردہ گزٹڈ افسر اردلی روم قائیم کریگا۔
   (۲)  اردلی روم اجلاس کرنے والے افسران گزٹ شدہ کو چاہیے کہ جو عرض ومعروض ماتحتان مقررہ ذریعہ سے اور ڈسپلن کے مطابق گوش گزار کریں انہیں سن کر احکام صادر کریں۔ اسی طرح ہیڈ کواٹر میں مقیم قصور وار اولاََ اردلی روم میں اجلاس کنندہ افسر کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ جو تاحد امکان ایسے معملات کا فوراََ فیصلہ کرے گا اور اپنی اتنی کاروئی قلمبند کرے گا کہ جتنی ہر ایک معملہ کے حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے قاعدے کی رو سے ضروری ہو جب کسی قصور وار کے خلاف کوئی ایسی شکایت ہو جس کی نسبت اتنی طویل باقاعدہ کارروائی کی ضرورت ہو کہ فوراََ مکمل نہ ہوسکے تو افسر اجلاس کنندہ ایسی کاروائی کے لیے حکم صادر کرے گا۔
باب 17-14   میڈیکل سرٹیفیکیٹ:۔Medical Certificates
  میڈیکل افسروں سے سرکاری ملازمیں کیلئے میڈیکل سرٹیفیکیٹ کے حصول کے بارے میں قواعد پنجاب میڈیکل مینوئل کے ضمیمہ نمبر 28میں درج کیے گئے ہیں۔
    (2)  رخصت یا ب افسران جس ضلع سے رخصت پر ہو سے باہر ہو تو اگر میڈیکل سرٹیفیکیٹ پر توسیع رخصت کے خواہاں ہوں تو اسی ضلع کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو درخواست کرنی چاہیے۔ ہر ایسی صورت میں میڈیکل افسر کو چاہیے کہ سرٹیفیکیٹ عطا کرنے سے پہلے درخواست کنندہ کے محکمہ یا دفتر کے سربراہ سے درخواست دہندہ کی سابقہ میڈیکل ہسٹری کے بارے میں تفصیلات نیز یہ امر کہ آیا درخواست دہندہ واقعی رخصت پر ہے اور وہ کون سے ضلع سے تعلق رکھتا ہے، معلوم کرکے پھر سرٹیفیکیٹ میں اس کی متعلق ذکر کرے گا۔
    (3)  میڈیکل افسروں کیلئے صحت کی خرابی یا آب وہوا کی ناموافقت کی وجو ہات پر تبادلہ کی سفارش کرکے سرٹیفیکیٹ دینا منع ہے۔ البتہ اگر سرٹیفیکیٹ کیلئے کسی درخواست گزار کا قریب ترین بالا تر افسر درخواست دہندہ
 کیلئے کسی مقام کے مضر صحت یا کسی دوسرے مقام کے مقابلے میں فائدہ مند ثابت ہونے کے احتمال کی بابت کوء یاطلاع طلب کرے تو اطلاع مذکور سرٹیفیکیٹ سے علیحدہ روانہ کی جاسکتی ہے۔   (قاعدہ 7ضمیمہ 28)
   (4)   جب کبھی بھی کوئی پولیس افسر کی بیماری کے متعلق گورنمنٹ کے مفاد کے پیش نظر افسران اعلیٰ تفصیلات حاصل کرنا چاہیں تو دینی چاہیے۔  تاہم اس طریق کی شاذو نادر ہی ضرورت پڑتی ہے البتہ پولیس افسر خود میڈیکل کیفیت نامہ اپنے میڈیکل نگران سے حسب طریق دیگر کیفیت ناموں کے جو درخواست بمطابق ڈاکٹری ہدایت کے ساتھ منسلک کرنے کو حاصل کرتے ہیں، حاصل کرسکتے ہیں۔ (قاعدہ نمبر16  ضمیمہ 28 )
   (5)   میڈیکل افسروں کو چاہیے کہ جن اہالیان پولیس کے ہسپتال میں مزید قیام سے فائدہ کی امید نہ ہو ان کی نسبت صرف رخصت کی سفارش کریں اور اس قسم کی تصدیق نہیں کرنی چاہیے کہ فلاں ملازم پولیس ملازمت کے ناقابل ہے۔ سوائے جبکہ سرکاری طور پر کسی ملازم پولیس کی مزید ملازمت کی قابلیت کے بارے میں رپورٹ کرنے کی درخواست کی جائے۔
باب 18-14:  پرچہ جات ڈیوٹی:
          ہر ایک پولیس افسر کا اردو میں فام 18-14  پر پرچہ ڈیوٹی رکھا جائے گا۔وہ بذات خود ذمہ دار ہوگا کہ تمام تبادلے جن میں تبدیلی فرائض لازمی ہو تمام رخصت اور تمام ڈیوٹیاں جب میں 24 گھنٹے یا زیادہ عرصہ لائن سے غیر حاضر رہنا پڑے۔اس پرچہ میں باقاعدہ درج کی جائیں گی اور ان اندراجات پر لائن افسر،افسر انچارج تھانہ یا محرر ہیڈ کنسٹیبل دستخط کرے گا۔
باب21-14    جیل خانوں میں داخل ہونے کا اختیار:  
      ۱۔  گزٹ شدہ پولیس افسران کسی وقت بھی ایسی غرض کے لئے جیل خانوں میں داخل ہو سکتے ہیں جس کا تعلق ان کے فرائض کی انجام دہی سے ہو۔
    (2)   ماتحت افسران پولیس صرف قیدیوں کی شناخت کے متعلق کاروائی کرنے کیلئے جیل خانوں میں داخل ہوسکتے ہیں۔ اور باقاعدہ وردی میں ملبوس ہونگے۔
   (3)  کسی پولیس افسر کو کسی قیدی سے سوال کرنے کی اجازت نہیں سوائے جب کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے سپر نٹنڈنٹ جیل خانہ کے نام اس بارے میں تحریری حکم دیا ہو۔اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر سے کم تر عہدہ کے افسران
اس مطلب کے واسطے تعینات نہیں کیے جائیں گے۔
باب 22-14   نجی اسلحہ آتشین۔
   ۱۔  بالعموم SI  سے کم تر عہدہ کے پولیس پرائیویٹ اسلحہ آتشین رکھنے کے سفارش نہیں کرسکتے البتہ اعلی معاشرہ اور  زیادہ جائیداد والے سفارش کرسکتے ہیں۔
   ۲۔  غیرگزٹ شدہ افسران پولیس کیلئے ڈیوٹی پر پرائیویٹ اسلحہ آتشین کا استعمال ممنوع ہے (قاعدہ 34-6)
باب 23-14:  اس جائداد پر کنٹرول جو پولیس افسران کے قبضہ میں آئے یا وہ حاصل کریں۔
   ۱۔  حسب ذیل شرائط کے تحت کوئی پولیس افسر زمین یا دیگرجائیداد قبضہ میں رکھ سکتا ہے۔
   (الف)  کنسٹیبل سے بالا تر عہدے کا ہر ایک پولیس افسر ایسے عہدہ میں اولین تقرری کے وقت سپرنٹنڈنٹ پولیس کو عام استعمال کے فارم 76 اے پر اپنی، یا بیوی یا بیٹیوں، باپ، بھائیوں یا بھتیجوں کی غیر منقولہ جائیداد واقع پاکستان کی نسبت مکمل اور مفصل رپورٹ کرے گا۔ نیز اس جائیداد کی بھی جو وہ خود یا اس کی خاندان کے مذکورہ بالا ارکان بعد میں حاصل کریں۔ خاندانی مقبوضات اراضی کی تفصیل اس رپورٹ کے فارم میں داخل کرنے کی ضرورت نہیں لیکن انہیں علیحدہ ظاہر کردینا چاہیے۔ رپورٹ میں حق یا حصہ بھی بیان کیا جائے جو اسے کسی خاندان کی متروکہ جائیدا د میں حاصل ہو۔ ہر سال جنوری کے مہینے میں کنسٹیبل سے بالا تر عہدہ کا ہر ایک پولیس افسر اقرار نامہ داخل کرے گا اور اس میں جو کمی بیشی یا تبدیلی اس کی جائیداد غیر منقولہ میں یا اس کے خاندان کے ارکان کی جائیداد میں گزشتہ سال میں ہوئی ہو اس کی تفصیلات درج کرے گا اور اگر ایسی کوئی تبدیلی نہ ہوئی ہو تو وہ اس بارے میں تصدیق قلمبند کرے گا۔ جو انہیں ہر ایک افسر کی سالانہ خفیہ رپورٹوں کے ساتھ منسلک کرکے ہر دو دستاویزات انسپکٹر جنرل پولیس کو 15 فروری تک بھیج دے گا۔ انسپکٹر جنرل یہ اقرار نامے بغرض اطلاع گورنمنٹ کو بھیج دے گا اور ان کے واپس آنے پر افسران متعلقہ کی پرسنل فائلوں کے ساتھ شامل کردے گا۔ ماتحتان اعلیٰ اپنے اقرار ناموں کے فارم سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ارسال کریں گے جو ان کو سالانہ خفیہ رپورٹ متعلقہ افسران مذکور کے ساتھ شامل کرکے ہر دو دستاویزات ڈی آئی جی پولیس کو بھیج دے گا۔ ان ماتحتان اعلےٰ کے اقرار ناموں فارم جن کی ابتدائی پرسنل فئلیں قاعدہ 38-18  کے تحت انسپکٹر جنرل پولیس کے دفتر میں رکھی جاتی ہیں ایسے ہر ایک افسر کی سالانہ خفیہ رپورٹوں کے ساتھ بھیجے جائیں گے
نوٹ:۔   تمام صورتوں میں جن میں پولیس افسران رہائشی یا دیگر اغراض کیلئے جائداد غیر منقولہ جزو یا کلا حاصل
یا فروخت کریں بوساطت معمولی انسپکٹر جنرل پولیس کی پیشگی منظوری حاصل کی جانی چاہیے۔
    (ب)   ماتحتان ادنیٰ ماتحتان اعلیٰ کے رتبہ پر ترقی حاصل کرنے پر اس جائداد غیر منقولہ کی بابت جو اس کی ترقی کے وقت خد ان کے یا ان کے ارکان کنبہ کے قبضہ میں ہوتا زہ اقرارنامے لکھ کر SPکی معرفت ڈی آئی جی پولیس کو ارسال کریں گے۔ڈی آئی جی پولیس ان اقرار نامہ جات کے تحقیقات کرنے اور کسی غلطی کی اصلاح کرنے کے بعد اس امر کی تصدیق کرے گا کہ یہ سابقہ اقرارنامجات سے ملتاہے۔ تب تازہ اقرارنامہ اس پرسنل فائل کے ساتھ ریگارڈ کیا جائے گا۔ جو افسر مذکور کی ترقی یا بی پر کھولا گیا ہو۔
    (ج) جب کسی پولیس افسر کو اس ضلع میں جہاں وہ ملازم ہو زمین رہن یا بیع لینے کی اجازت دی جائے تو اسے کسی دوسرے ضلع میں تبدیل کردیا جائے گا۔
    (د)   جو افسران پولیس نہری نو آبادیات میں ملازم ہوں ان کیلئے رقبہ ملازمت میں بذریعہ نیلام یا ٹنڈرز مین خریدنا منع ہے۔
(2)   جہاں تک مقبوضات کا تعلق ہے۔ گورنمنٹ اس حق کو محفوظ رکھتی ہے کہ جب مفاد امہ اس امر کا مقتضی ہو تو کسی پولیس سے مطالبہ کرے کہ وہ ان سرمایہ کاریوں کا جو خود اس نے یا اس کے کسی نزدیکی رشتہ دار مصرحہ شرط  (۱)  (الف) بالانے کی ہوں یا کسی غیر منقولہ جائیداد کا جو اس نے یا اس کے نزدیکی رشتہ داران مذکور میں سے کسی نے حاصل کی ہو حساب پیش کرے۔
   (3)  اسسٹنٹ سب انسپکٹروں اور ان سے بالاتر عہدوں کے جملہ افسران کی ذاتی امسلہ میں ایک خفیہ یادداشت رکھی جائے گی جس میں یہ دکھلایا جائے گا کہ افسر متعلقہ کو تنخواہ کے علاہ کن کن دیگر ذرائع سے کتی زائد آمدنی ہوتی ہے۔ یہ ریکارڈ افسران کے اپنے فائدہ کیلئے رکھا جاتا ہے چنانچہ یہ ضروری ہے کہ جس سپرنٹنڈنٹ پولیس کے ماتحت وہ خدمت انجام دے رہے ہوں اس کو خفیہ طور پر تمام ایسے ذرائع آمدنی اور حاصل کردہ تمام اضافہ جات کی درست رپورٹ کریں۔
    (4)   تمام اطلاعات جو افسران پولیس اپنی اور اپنے رشتہ داروں کی منقولہ اور غیر منقولہ جائداد کی بابت جو ان کے قبضہ میں ہو یا انہوں نے حاصل کی ہوویں قطعی طور پر خفیہ متصور ہوں گی۔
باب 24-14:  فراہمی اشیاء کے متعلق احکام:
   (۱)  بطور ایک عام اصول پولیس کے لئے فراہمی ذرایع سواری و باربرداری یا دیگر اشیا ممنوع ہے لہٰذا جب
کوئی سائل فراہمی اشیاء کے متعلق درخواست کریں تو وہ بالعموم ایسے معاملات میں صرف اسے وہ جگہ بتلادینے تک اکتفا کریں گے جہاں سے مطوب اشیاء دستیاب ہوسکتی ہیں۔
  (2)   ماتحتان سے تحفہ جات، مفت سواری یا ضیافت کا قبول کرنا سخت منع ہے۔ افسران اعلیٰ وماتحتان ہر دو کو خوب سمجھ لینا چاہیے کہ قاعدہ ہذا کا ااجراء اس لیے ضروری ہے کہ کوئی ایسا رواج نہ رہنے دیا جائے جس کا برااستعمال ہوسکے یا جس کے نسبت غلط بیانی ہوسکے۔
   (3)  دورہ کرنے والے افسروں پر واجب ہے کہ بذات خود نہایت احتیاط سے تحقیق کرلیں کہ دوروں کے متعلق جو کچھ خرچ ہو وہ سب ادا کیا جائے اور ان اشخاص کو مل جائے جن کو واجب الادا ہے۔ اس بارے میں نہ صرف ان اشیاء کی مناسب قیمت کی ادائیگی کا جو خود دورہ کرنے والے افسر کو مطلوب ہوں بلکہ ان قرضوں کی ادائیگی کا بھی خیال رکھا جائے جو نوکروں اور دوروں کے عملہ نے برداشت کیے ہوں جب کھبی ممکن ہو تمام اشییاء اسی ٹھیکیدار سے لینی چاہیں جس کو گورنمنٹ نے اس غرض کیلئے مقرر کیا ہو۔
    (4)  مندرجہ بالا تحتی قواعد (1)  اور (2)  میں مندرجہ خاص مثالوں کے علاوہ تمام عہدوں کے افسران پولیس کو سخت تاکید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو کسی ایسے ماتحت یا پبلک کے کسی فرد کے زیر بار احسان نہیں کریں گے۔ جن کے ساتھ ان کو منصبی حیثیت میں سابقہ پڑنے کا امکان ہو۔
    (5)  محکمہ پولیس یا کسی اور سرکاری محکمہ کے ماتحتان کی معرفت فراہمی یا خرید اشیاء خواہ دورہ پر یا ہیڈ کوارٹر میں سخت منع ہے۔ کوئی پولیس افسر کسی سرکاری ملازم سے کوئی ایسا پرائیویٹ کام نہیں لے گا جس میں معاملہ یا سودے میں روپیہ وصول یا خرچ کرنا پڑتا ہے۔
باب 25-14   روپیہ کا لین دین۔
     (1)   افسران پولیس کیلئے دفاتر پولیس کے اکااؤنٹوں کے ساتھ کسی قسم کا روپیہ کا لین دین رکھنا منع ہے۔
   (2)  کوئی پولیس افسر بالواسط یا بلا واسطہ طور پر کسی دوسرے پولیس افسر سے یا اس کے کسی ایجنٹ، تعلق دار، متوسل، رشتہ دار یا ضامن سے نہ روپیہ قرض لے گا۔اور نہ اپنے آپ کو اس کا مرہون منت کرے گا۔
   (3)  کوئی پولیس افسر بالواسط یا بلا واسطہ طور پر کسی دوسرے پولیس افسر کو روپیہ قرض نہیں دے گا۔اور پولیس افسران کیلئے اس صوبہ کے کسی زمیندار کو جس میں وہ ملازم ہوں باضمانت یا بلاضمانت براہ راسست یا رشتہ داروں یا دیگر ایجنٹوں کے ذریعہ سود پر روپیہ قرض دینا منع ہے۔
   (4)  IGPکی منظوری کے بغیر HC,sیا کنسٹیبلوں سے کسی غرض کیلئے چندے وصول نہیں کیے جائیں گے۔
   (5)  اگر پولیس کے ماتحتوں میں سے کوئی شخص دیوالیہ یا لا علاج طور پر ستاپا مقروض ہو تو وہ افسر اپنے قریب ترین بالا افسران کو اس امر کے رپورٹ کریں گے۔
    (6)  افسران گزٹ شدہ کیلئے ایسے اشخاص سے ادھار لینا یا ان سے روپیہ لے کر اپنے آپ کو ان کا مرہون منت کرنا جوان کے منصبی اختیارات کے ماتحت یا زیر اثر ہوں یا جوان مقامی حدود کے اندر رہتے ہوں، جائیداد رکھتے ہوں یا کاروبار کرتے ہوں۔  اور خلاف ورزی کی صورت میں موقوف کیا جاسکتا ہے۔
باب 26-14  تحفہ جات: 
     (1)  اصول قاعدہ 24-14 کے رو سے  افسران پولیس کو اپنی ماتحتان سے تحفہ جات نہیں لیں گے۔
   (2)  ما سوائے اپنے گھر کے قریب ہمسانیہگان جو پولیس میں ہوں شادی کی تقریبات پر ازدواجی تحائف کا لینا دینا منع ہے۔افسران پولیس کیلئے ڈالیوں کے لینے اور دینے کی قطعی ممانعت ہے۔ ڈالیوں کے متعلق گورنمنٹ پنجاب کے احکام گورنمنٹ پنجاب کے مجموعی گشتی سرکلر نمبر 1فقرات 11,12  میں دیئے گئے ہیں۔ پولیس افسران یا اس کے کنبے کے افراد کیلئے غیر سرکاری اشخاص سے تحفہ جات یا ڈالیوں کا قبول کرنا منع ہے۔ کوئی سرکاری ملازم کسی بھی شخص سے پھولوں یا پھلوں کا یا اسی قسم کی کم قیمت اشیاء کا اعزازی تحفہ قبول کرسکتا ہے مگر تمام ملازمان سرکاری اپنی بہتی کوشش سے اس قسم کے تحفہ جات کی پیشکشوں کو روکیں گے۔
     (2)  ماسوائے اپنے گھروں کے قریب ترین ہمسایہ گان یا رشتہ داران کے بھرتی شدہ پولیس افسروں کیلئے شادی کی تقریبات پر ازدوافی تحائف کا لینا دینا منع ہے۔
     (3)  ماسوائے اتقاقی اشد ضروریات روساء کی گاڑیوں اور گھوڑوں وغیرہ کا عاریتاََ لینا افسران پولیس کے لیے منع ہے۔
     (4)  کوئی پولیس افسر ایسی الوداعی ضیافتوں میں شامل نہیں ہوگا۔ جو اس کے ملازمت سے سبکدوش ہونے یا کسی ضلع یا مقام سے روانہ ہونے کے موقع پر اس کیے لیئے لحاظ کی علامت کے طور پر دی جائیں اور نہ ایسی ضیافتوں میں شریک ہوگا جو اس کے اعزاز میں دی جائیں۔ سوائے جب کہ ایسی ضیافتیں محض غیر رسمی اور پرائیویٹ نوعیت کی ہوں اور حقیقتاََ ذاتی دوستوں تک محدود ہوں۔
باب 27-14:  غیر محکمانہ اثر ورسوخ کیلئے التماس نہیں کی جائے گی۔
    (1)  تمام عہدوں کے افسران پولیس کیلئے دیگر محکمہ جات کے افسروں یا غیر سرکاری شرفاء سے ترقیوں،تبادلوں،سزاؤں اور اپیلوں وغیرہ کے معاملات میں ذاتی حقوق کی تقویت کیلئے امداد طلب کرنا ممنوع ہے۔ ترقیاں باب 13میں بیان کردہ اصولوں اورطریقوں کے مطابق کی جاتی ہیں۔ محکمانہ مقرر کردہ رپورٹ ہائے ترقی، اعمالنامہ جات و امسلہ ذاتی کے سوا براہ راست یا بالواسطہ درخواستوں یا سفارشوں کے بیرونی ذرایع سے افسران با اختیار ترقی کے دلوں پر اثر ڈالنے کی کوشش کرنا نظم وضبط کی سخت خلاف ورزی متصور ہوگی۔ تبادلہ جات مفاد سرکار کے لحاظ سے کیے جاتے ہیں نہ کہ افراد کی سہولت کیلئے۔ احکام تبادلہ جات کی ترمیم کیلئے معقول معروضات مناسب ذریعہ سے اور قاعدہ 6-14  میں مقررہ طریق کے مطابق پیش کی جاسکتی ہیں۔ البتہ اگر اس قسم کی درخواستیں فجول ہوں یا محض ناگوار علاقوں میں نوکری سے بچنے کیلئے کی گئی ہوں تو انضباط شکنی کیلئے محکمانہ کارروائی کی جاسکتی ہے۔ افسران پولیس کو یہ بھی اجازت نہیں کہ مناسب ذریعہ سے منظوری حاصل کیے بغیر اپنے تبادلوں،ترقیوں اور سزاؤں وغیرہ کے متعلق انسپکٹر جنرل یا ڈپٹی انسپکٹر جنرل سے ملاقات کریں۔
   (2)  اسی طرح افسران پولیس کیلئے یہ ممانعت ہے کہ وہ مجلس واضع قوانین کے ارکان سے استدعا کریں کہ ان کی ذاتی شکایت کو مجالس مذکو رمیں موضوع سوالات بنایا جائے۔
    (3)   مذکورہ بالا ضمنی قاعدہ  (۱)  میں بیان کردہ ممانعت میں ماسوائے سرٹیفیکیٹ جو زیر قاعدہ 3-15  عطاکیے جائیں یا رسمی خطوط کے جو متعلقہ سپرنٹنڈنٹ پولیس کے نام لکھی جائیں اور ان میں موصوف کو ان خاص خدمات کی اطلاع دی گئی جو نویسندہ کیلیے انجام دی گئی ہوں یا جن کا علم اس کو منصبی حیثیت میں ہو اہو کسی اور قسم کے سرٹیفیکیٹوں یا سفارشی چھٹیوں کا حاصل کرنا بھی شامل ہے۔
    (4)   افسران پولیس کیلئے انسپکٹر جنرل کی پیشگی منظوری کے بغیر گورنمنٹ کے ممبروں یا سیکرٹریوں سے انٹرویو حاصل کرنا سخت منع ہے۔
باب 28-14:  سٹے میں سرمایہ کاری:
      (1)  پولیس افسر عادتاََ کسی پبلک فنڈ یا کمپنی سے کوئی شیئر سٹاک، یا دیگر کفالت نامہ نہ خریدے گا نہ بیچے گا جس کی قیمت وقتاََفوقتاََ بڑھتی ہو۔
    (2)     پولیس افسر فنڈز میں نفع کی امید پر سرمایہ  لگانے کیلئے خبر یا اطلاع سے فائدہ نہیں اٹھائے گا جو اسے
منصبی حیثیت میں موصول ہوئی ہو۔
     (3)  پولیس افسر تجارت نہیں کریں گے لیکن ایسی کان کنی یا دیگر کمپنیوں کے حصے رکھ سکتے ہیں۔جن کا مدعا ملک کے ذرایع کی ترقی ہو۔ بہر حال کوئی پولیس افسر انسپکٹر جنرل کی منظوری کے بغیر اس قسم کے اداروں کے انتظام میں حصہ نہیں لے گا اور نہ ہی کوئی پولیس افسر جس کے پاس کسی ایسی کمپنی کا حصہ ہو اس ضلع میں تعینات کیا جائے گا جہاں وہ کمپنی کام کرتی ہو۔
باب 30-14 :  پولیس افسر کا سیاست میں شرکت۔
     ۱۔  کوئی پولیس افسر ایسی سیاسی تحریک میں جو پاکستان میں جاری ہو حصہ نہ لے گا۔نہ اس کی امداد کیلئے چندہ دے گا جہاں شک کی گنجائش ہو کہ آیا کسی پولیس افسر کے زیر تجویز عمل سے قاعدہ ہذا کی خلاف ورزی ہوتی ہے یا نہیں اس بارے میں انسپکٹر جنرل کا حکم حاصل کیا جائے گا۔
    ۲۔   کوئی پولیس افسر کسی قانون ساز انجمن کے متعلق انتخاب میں کسی شخص سے کسی شخص کے حق میں ووٹ دینے کیلئے درخواست نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی اور طرح دخل دے گایا اپنا رسوخ استعمال کرے گایا اس میں حصہ لے گا لیکن اگر اس کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہو تو وہ اپنا ووٹ دے سکتا ہے۔
باب 31-14   بے ضابطہ درخواستوں اور سفارش کی ممانعت۔
     خالی اسامیوں کیلئے کوئی بھی براہ راست یا افسر بالا دست درخواست دینے اور سفارش کی ممانعت ہوگی۔
باب 32-14:  کاروائی جب رشوت پیش کی جائی:
        اگر کھبی پولیس افسرکو رشوت پیش کی جائے تو اسے چاہیے کہ فوراََ اپنے بالا دست افسر کو رپورٹ کریگا۔ حکم ہذا کی تعمیل نہ کرنا بجائے خود نظمو ضبط کی خلاف ورزی ہوگی۔ رشوت کی پیشکش فوجداری جرم ہے اور جن واقعا ت میں حالات سے ظاہر ہوکہ شخص رشوت دہندہ کے خلاف جوجداری استغاثہ دائر کرکے اس کو سزا دلائی جاسکتی ہے تو اس غرض کے حصول کیلئے فوری ہر ممکن کارروائی کرنی چاہیے۔
باب 33-14:   پولیس افسران کو دیگر ملازمت کرنے کی ممانعت ہے۔ 
     ایکٹ نمبر 1861-5ء کی دفعہ 10 میں سخت ممانعت کی گئی ہے کہ IGPکے خاص وتحریری اجازت کے بغیر کوئی پولیس افسر کسی قسم کا کوئی کاروبار نہیں کرے گا۔ اس قسم کی اجازت بالعموم دی جاتی رہی ہے تاکہ افسران پولیس جس حد تک قواعد متعلقہ طرز عمل ملازمان سرکاری میں اجازت دی گئی ہے۔ وقتاََ فوقتاََ ادبی کام کرنے یا
بحیثیت ممتحن یا بطور اعزازی کا رکن کسی خیراتی، مذہبی یا معاشرتی تنظیموں میں کام کرنے سے محروم نہ رہیں۔ بہر حال انسپکٹر جنرل کو حق حاصل ہے کے ان کے رائے میں اس قسم کی اجازت دے۔
باب 34-14: ثالثی:
  کوئی پولیس افسر کسی تنازعہ کے فیصلے کیلئے بحیثیت ثالث کام نہیں کرے گا۔ سوائے اپنے قریب ترین بالادست افسر کی        منظوری کے بغیر اور جب تک کوئی عدالت یا افسر مجاز جس کو ثالث کرنے کا اختیار ہو ثالثی کرنے کا حکم نہ دے۔
(دوم)  وہ کسی ایسے مقدمہ میں ثالثی نہیں کرے گا جس کی نسبت احتمال ہو کہ وہ اس کی انتظامی حیثیت کے لحاظ سے کسی شکل میں اس کے سامنے آئے گا۔
   (سوم)  اگر فریقین تنازعہ کی پرائیویٹ درخواست پر ثالثی کرے تو کوئی فیس قبول نہیں کرے گا
   (چہارم)  اگر کسی عدالت قانون کے حکم سے ثالثی کرے تو وہ ایسی فیس جو عدالت مقرر کرے قبول کرسکتا ہے۔
باب 39-14:  کنسٹیبلان درجہ سپیشل جن کے نام فہرست سی میں درج ہوں، کی مراعات وفرائض۔
   (1)  جن کنسٹیبلان کے نام فہرست سی میں درج ہوں وہ سنتری کی ڈیوٹی سے مستثنیٰ کیے جائیں گے اور کمان یا سیکنڈ کمان کی ڈیوٹی کریں گے جب کہ ان کنسٹیبلان کی تعداد جن پر اسکورٹ مشتمل ہوتین سے زیادہ نہ ہو اور پریڈوں اور دیگر موقعوں پر مثلاََ الارم، میلے، آتشزدگی ار صف بندی کوچہ وغیرہ کی ڈیوٹی پر جب کہ پولیس کو ایسے یونٹوں میں ڈیوٹی پر روانہ کیا جائے سکویڈ کمانڈ ر لگایا جاسکتا ہے۔ اس طرح کنسٹیبل صرف اس وقت لگائے جائیں گے جب کہ کوئی ہیڈ کنسٹیبل مستقل یا قائم مقام اس کام کے لئے موجود نہ ہو۔
   (2)  جس کنسٹیبل کو ہیڈ کنسٹیبل کے کام پر لگایا جائے تو ان آدمیوں پر جو حقیقتاَ اس کے زیر کمان لگائیں جائیں گے اور  اسے انضباطی اختیارات اور عملدری حاصل ہوگی۔
باب 41-14  ریٹائیمنٹ کے بعد وردی پہننا
(۱)   محکمہ پولیس کے ریٹائرڈ افسروں کو جن کا عہدہ سب انپکٹری سے کم نہ ہو اور جنہوں نے محکمہ پولیس میں کم ازکم 15 سال پسندیدہ ملازمت کی ہو رسمی موقعوں پر یا جب وہ اہل کار ان سرکاری سے ملاقات کریں۔ اس عہدہ کی وردی پہننے کی اجازت دی جاسکتی ہے جن پر وہ بوقت ریٹائر منٹ مامور تھے۔
(2)   اس قسم کی اجازت کے لئے درخواست ڈپٹی انسپکٹر جنرل کو بھیجی جائے گی اور ماتحتان اعلیٰ کی صورت میں
جس افسر کی درخواست بھیجی جائے اس کا اعمال نامہ بھی درخواست کے ساتھ بھیجا جائے گا۔
باب 42-14: طبی خدمت:  
(۱)   جب کوئی انسپکٹر، سب انسپکٹر یا  اسسٹنٹ سب انسپکٹر بیمارہو اور پولیس لائن میں رہتا ہو جو پولیس کے ہسپتال سے دور سے نہ رہتا ہو تو وہ اپنی جائے رہائش پر بھی علاج کرانے کا حقدار ہے۔  (2)  پنجاب گورنمنٹ کی چٹھی نمبر 25744  (طبی) مورخہ 3ستمبر1930ء کی رو سے تمام پولیس کا علاج پاکستان میں کسی ہسپتال میڈیکل، سرجیکل اور تیامرداری  میں مفت حاصل کرنے کے حقدار ہیں۔
باب 43-14:  ماتحتان ادنیٰ کا گھوڑے وغیرہ رکھنا 
                ڈپٹی انسپکٹر جنرل کی خاص منظوری کے بغیر کوئی ہیڈ کنسٹیبل یا پیادہ کنسٹیبل گھوڑا، ٹٹو یا خچر نہیں رکھے گا اور یہ منظوری صرف اس وقت دی جاسکتی ہے جب پولیس افسر خواستگار منظوری یہ ثابت کرسکے کہ وہ ایسے پرائیویٹ ذرائع آمدنی کا مالک ہے جن میں سے وہ ایسا جانور رکھ سکتا ہے۔
باب 44-14:  سرکاری اطلاعات کی پریس کو مراسلت:
  یہ امر پسندیدہ ہے کہ عوام پر اثر انداز قواعد پولیس واحکام کی اشاعت کیلئے اور ایسی اطلاع کی تشہیر کیلئے جس سے جرائم کی سراغ رسانی اور مجرمان کی گرفتاری میں عوام سے مدد مل سکے۔یا عوام کی تشویش کو دور کیا جاسکے، اخباری پریس کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جائے لیکن ان اغراض کے لئے سرکاری اطلاع کی مراسلت کا اختیار وفیصلہ صرف سپرنٹنڈنٹ پولیس کی ذات تک محدود ہے۔ علاوہ ازیں سپرنٹنڈنٹ اختیار مذکور کے اجراء میں صرف مقام اہمیت کے معاملات میں مراسلت کرسکتے ہے۔ اور ان کے لئے کسی ایسی اطلاع کو مشتہر کرنا منع ہے جس کا تعلق براہ راست یا بالواسطہ عام حکمت عملی کے معاملات سے ہو۔ ضلع کے سپرنٹنڈنٹ پولیس کے ماتحت افسران پولیس کے لئے پریس کے نمائندگان کو کسی قسم کی سرکاری اطلاع کی خبر اپنی ذمہ داری پر دینا قطعاََ منع ہے۔
باب 49-14:  ایسوسی ایشنوں میں شرکت: 
(۱)    گورنمنٹ افسران پولیس کے مختلف عہدوں کی الگ الگ انجمنوں کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے۔ بشرطیکہ ایسی انجمنیں مقرر شدہ شرائط کی پابند رہیں۔ جماعت ہائے موجودہ و مجوزہ کو ر ان قواعد کی مطابقت کے سوا کسی اور طرح جماعت بندی کرنا یا افسر ان پولیس کا ماسوائے تسلیم شدہ انجمن پولیس کی کسی اور
انجمن یااتحاد اہل صنعت وحرفت میں منفرداََ شامل ہونا قطعاََ منع ہے۔
باب 50-14:  افسران پولیس کی وفات یا ضرر رسی کی رپورٹ:
  (1)  جب کوئی گزٹ شدہ افسر یا ماتحت اعلیٰ فرائض کی انجام دہی میں مقتول یا مجروح یا اچانک غیر طبعی موت وقوع میں آجائے تو جس سپرنٹنڈنٹ پولیس کے ماتحت وہ ملازم ہو وہ براہراست IGPکو بذریعہ تاربرقی اطلاع دیں گے۔زخموں کی حالت میں سپرنٹنڈنٹ بیان کریں گے کہ زخم خطر ناک سخت یا خفیف ہے۔ ایسی تار کے ذدیعے بھیجی ہوئی رپورٹوں کی تکمیل میں کمترین ممکن توقف کے بعد فارم (1)50-14  پر مفصل رپورٹ بھیجی جائے گی۔
   (2)  جو اموات تحتی قاعدہ (۱)  اور (2) آتی ہیں ان کے علاوہ اور جو اموات ہوں ان کی اطلاع گزٹ شدہ افسران کی صورت میں بذریعہ تار برقی IGP ارسال کی جائے گی تاکہ موصوف ان کے ورثاء کو خبر دے سکیں۔
باب 51-14:  کتے کے کاٹے کا علاج: 
     جو افسران کتے کے کاٹے کا علاج کیلئے سرکاری خرچ پر جائیں ان کو اگر لاہور کا سفر سستا رہے تو لاہوربھیجا جائے گا۔ سوائے جب کہ IGPسول ہسپتال ہائے پنجاب اطلاع دیں کہ پنجاب بیکٹریولوجیکل لیبارٹری لاہور میں نئے مریضوں کیلئے گنجائش نہیں۔  سرکاری ملازمین جو علاج کیلئے لاہور جائیں ان کو ضروری ردوبدل کے ساتھ اسی طرح مراعات دی جائیں گی جس طرح وقتاََ فوقتاََ رائج الوقت قواعد کی رو سے ان مریضان سگ گزیدہ کو دی جاتی ہیں جو علاج کے لئے پاسچر انسٹیوٹ جائیں۔مندرجہ ذیل افسران کو پاسچر انسٹیٹیوٹ جانے کے لئے منظوری دینے کا اختیار ہے۔ (الف)  ڈپٹی انسپکٹر جنرل۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس کی صورت میں منظوری بذریعہ تار یا ٹیلی فون حاصل کی جاسکتی ہے۔ (ب)  سپرنٹنڈنٹ پولیس یا موجوالموقعہ بالا تر افسر گزٹ شدہ، عملہ مقیم ہیڈکورٹر کی صورت میں (ج) کوئی گزٹ شدہ افسر یا انسپکٹر، ہیڈ کوارٹر سے دوررہنے والے افسران کی صورت میں۔
باب 52-14:  نوعیت اسلحہ جات جو ہمراہ رکھے جائیں گے۔ 
                اس امر کے متعلق کہ پولیس کو مختلف فرائض کی انجام دہی میں کو ن سے اسلحے ہمراہ رکھنے چاہئیں۔ عام حکم کے ذریعہ کوئی قاعدہ مقررنہیں کیا گیا۔ ہر ایک ضلع میں مقامی حالات کے لحاظ سے SPبذریعہ حکم العمل مختلف فرائض کیلئے معمولی اسلحہ برادری کے قواعد مقرر کریں گے۔جو حالت ایسے احکام کے تحت نہ آئیں
ان میں جو افسر کسی خاص ڈیوٹی کے لئے آدمی تعینات کرے وہ ان کی اسلحہ برادری کا فیصلہ بھی کرے گا۔ جن اسکورٹوں کے متعلق اسکورٹ تعینات کنندہ افسر کے رائے میں امکان ہوکہ ان پر حملہ آوروں کی تعداد زیادہ ہوگی ان کو ہمیشہ مسکیٹس سے مسلح کیا جائے گا۔
باب 53-14:  تقسیم تنخواہ: 
(۱)           جب تنخواہیں تقسیم کرنے کیلئے روپیہ وصول ہو جائے تو جو وصول کنندگان حاضر ہوں ان کو فوراََ واجب الادا رقم ادی کی جائے گی۔ ہر ایک ماتحت اعلیٰ وادنیٰ کو باری باری بلایا جائے گااور اس کو قبض الوصول میں درج شدہ تفصیل تنخواہ میں الاؤنسہا وخدمات اور بقایا جات واجب الادا جو اس کے متعلق ہو پڑھ کر سنائی جائے گی پھر اس کو رقم واجب الادا دے کر بطور رسید اس کا دستخط کرایا جائے گا۔اگر کوئی شکایت ہو اور وہ معقول ہو تو اس کی یادداشت لکھ کر بلاتاخیر سپرنٹنڈنٹ کے روبرو پیش کی جائے گی۔ ہیڈ کوارٹر میں لائن افسر بذات خود اسی دن تنخواہ تقسیم کردے گا جس دن وہ موصول ہوا ور اس کے بعد جو تنخواہیں ان اشخاص کو جو پہلے دن موجود نہ تھے لائن محرر کی معرفت تقسیم ہوں گی۔ان کی متعلق قبض الوصول کی اندراج اور روزنامچہ کے اندراج کی روزانہ پڑتال کرے گا۔ تھانوں اور چوکیوں میں تنخواہ موصول ہونے پر افسر انچارج بذات خود تقسیم کرے گا۔ بشرطیکہ وہ موجود ہو اس کی عدم موجودگی میں سینئر افسر موجدالموقع تقسیم کرے گا اور رسمی ضابطے کی تعمیل کی جائے گی جو لائن میں تقسیمات کے لئے مقرر ہے جب افسر انچارج تھانہ خود تقسیم نہ کرسکے تو وہ قریب ترین موقع پر ماتحتان کی معرفت ادا شدہ رقومات کی پڑتال کرلے گا۔وہ وصول کے پانے والوں کو طلب کرکے اپنی تسلی کرلے گا کہ وہ رقوم باضابطہ ادا کی گئی ہیں اور اس واقعہ کی رپورٹ روزنامچہ میں درج کرے گا۔ ایسے افسران گزٹ شدہ جب کھبی ممکن ہو بذات خود تنخواہ کی ادائیگی کی نگرانی کریں گے اور ہیڈکوارٹر میں اور دوروں پر ہر دوجگہ ہر ایک موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پڑتال کرکے دیکھیں گے کہ افسران پولیس کو اپنی اپنی واجب الادا رقوم ٹھیک ادا ہوچکی ہیں یا نہیں۔ سابقہ بقایا تنخواہ کے بلوں اور سفر خرچ کے بلوں کی ادائیگی کے متعلق خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔ سسٹم مندرجہ قاعدہ ہذا ایسی ادائیگیوں پر بھی حاوی ہوگا اور افسران لائن و انچارج تھانہ جات نیز افسران نگران کا پڑاتال ذاتی طور پر کریں گے۔
باب 54-14:   آرڈر بک: 
(۱)     سپرنٹنڈنٹ پولیس کا ریڈر یا اگر وہ ہیڈکوارٹر میں موجود نہ ہو تو موجودہ الموقعہ سینئر گزٹ شدہ افسر کا ریڈر
اس آرڈربک میں روزانہ اندراجات کرکے اسے مرتب اور مکمل رکھے گا۔ اندراجات کو تمام سال سلسلہ وار نمبر شمار دئیے جائیں گے اور ہر ایک روز کے احکام کی ترتیب مندرجہ ذیل عنوانات میں کی جائے گی۔ (ترتیب ومعائینہ۔اس میں پریڈوں، ملاحظوں اور ڈیوٹیوں کے جملہ احکام شامل ہوں گے۔ (دوم) عملہ جات۔ اس میں بھرتی، برخواستگی، تبادلہ، نفری کے اضافے وتخفیف، ترقی، تنزلیم رخصت اور پنشن کے متعلق تمام احکام شامل ہوں گے۔ (سوم) نظم وضبط۔ اس میں سزاؤں اور انعامات اور انضباطی نوعیت کے تمام احکام شامل ہوں گے۔ (چہارم) حسابات۔ اس میں وصولیات وتقسیمات، نقدی الاؤنسوں کی منظوری اور تنخواہ سے وضعات اور زائد از حق ادا شدہ رقومات وغیرہ کی وصولی کے تمام احکام شامل ہوں گے۔(پنجم) متفرق۔
  (2)  آرڈر بک ہر روز دوپہر کے وقت بند کردی جائے گی۔ دوپہر کے بعد جو احکام بغرض اندراج وصول ہوں گے ان کو دوسرے دن درج کیا جائے گا۔دائیں حاشیئے پر تقسیمی عنوانات اور ہر ایک حکم کا نمبر شمار دیا جائے گا۔ صفحے کے بائیں طرف بھی حاشیہ چھوڑا جائے گا جس پر کوئی گزٹ شدہ افسر انگریزی میں ہر ایک ایسے حکم کا خلاصہ تحریر کرے گا۔ جو تنزلی، ترقی یا بھرتی کے متعلق ہو یا آسامی پیدا کرنے کے بابت ہو۔
(3)   جب دن کے احکام مکمل ہو جائیں تو انہیں ان کے نیچے دستخط کرنے کیلئے سپرنٹنڈنٹ کے روبرو پیش کیا جائے گا۔یا موصوف کی عدم موجودگی میں اس گزٹ شدہ افسر کے پاس بھیجا جائے گا جو ان کی جگہ کام کررہا ہو۔ ساتھ ہی افسر دستخط کنندہ اگر احکام کی عبارت میں کوئی تصحیحات یا اندراجات کیے گئے ہوں تو ان پر بھی چھوٹے دستخط کرے گا اور بالائی تحتی قاعدہ (3)  کے مطابق جو خلاصہ جات تحریر کئے گئے ہوں ان پر بھی دستخط کرے گا۔
(4)   اصلی احکام اوپر کے تحتی قاعدہ (1)  میں بیان کردہ سسٹم کے مطابق نصف فل سکیپ سائز کے ایک سو صفحات کے مجلد رجسٹر میں تحریر کیے جائیں گے۔ (قواعد پولیس فارم (4)54-14  اصل کاپی کے نیچے کاربن رکھ کر اسی سائز کی مزید تین کاپیاں بنائی جائیں گے پھر یہ نقول لائن افسر، اکاؤنٹنٹ اور اردلی ہیڈ کنسٹیبل کے پاس بھیج دی جائیں گی اور یہ تینوں افسران احکام کی سالانہ مسلیں اپنے اپنے دفتر میں استعمال اور عملدرآمد کے لئے رکھیں گے۔ یہ سالانہ مسلیں دوسال بعد تلف کی جائیں گی۔
(5)   ریڈ لائن افسر، اکاؤنٹنٹ اور اردلی ہیڈ کنسٹیبل اپنے اپنے رشتہ کے متعلق ضمنی مکتوبات وہدایات جاری کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔ اس قسم کے مکتوبات متعلقہ برانچوں میں تیار کئے جائیں گے اور برانچ روانگی کی معرفت روانہ کیے جائیں گے۔
نوٹ:۔   اگر سپرنٹنڈنٹ پولیس چاہے تو اس آرڈر بک کو اردو کی بجائے انگریزی میں رکھنے کا حکم دے سکتا ہے۔
باب 55-14: مسل احکام قائم العمل: 
 (۱)    ریڈر سپرنٹنڈنٹ کے تمام جاری کردہ احکام قائم العمل کی ایک انگریزی مسل مرتب رکھے گا۔ ہر ایک ایسے حکم کا اردو ترجمہ دوسری مسل میں رکھا جائے گا اور ہر ایک ایسی مسل کا انڈکس تیار کیا جائے گا۔یہ امسلہ مسلسل پانچ سال جاری رہیں گی۔اس کے بعد جو پہلے احکام منسوخ ہو چکے ہوں اور ان کا قائم رکھنا ضروری ہو دوبارہ جاری کیے جائیں گے اور جاری رہیں گے۔نئی امسلہ شروع کی جائیں گی۔ ہر سال یکم جنوری کے بعد جس قدر جلد ہوسکے ریڈر لائن کو اور ہر ایک تھانہ کو تمام رائج الوقت احکام قائم العمل کی فہرست بھیجے گا۔ جب کا ریکارڈ پر رہنا ضروری ہے۔ یہ فہرست مسل کے انڈکس سے تیار کی جائے گی۔ ریڈر ذمہ دار ہوگا کہ جو احکام کم ہوں ان کی دوسری نقل بہم پہنچائے جب کوئی حکم قائم العمل منسوخ کیا جائے تو تنسیخ کی یادداشت انڈکس میں تحریرکی جائے گی۔ ریڈر ذمہ دار ہوگا کہ جو احکام کم ہوں ان کی دوسری نقل بہم پہنچائے جب کوئی حکم قائم العمل منسوخ کیا جائے تو تنسیخ کی یادداشت انڈکس میں تحریر کی جائے گی اور ریڈر کو جب ترمیمات کا حکم دیا جائے تو وہ تمام اشخاص متعلق کو ان کی تحریری اطلاع دے گا اور ان کے مطابق اصل حکم کی تصحیح کی جائے گی۔
    (2)  تمام مستقل قسم کے احکام عام جن کا اثر فرائض کی انجام دہی، ضابطہ اور دستور پولیس پر پڑتا ہو یا جن میں محکمہ کے قواعد کو واضح کیا گیا ہو۔مسلوں میں محفوظ رکھے جائیں گے۔ احکام قائم العمل متعلقہ گاردات، مستقل چوکیات زائد پولیس وغیرہ کو ان مسلوں میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
   (3)  ہر ایک احکام قائم العمل اجراء سے پیشتر بغرض منظوری صاحب ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے پیش کیا جائے گا۔ اگر حکم ایسا ہو جس کا اثرمحکمانہ ضابطہ کے کسی عام اطلاق امر پر پڑتا ہے اور اسے ڈپٹی انسپکٹر جنرل منظور کریں تو صاحب ممدوح اس کی نقل انسپکٹر جنرل کی خدمت میں ارسال کریں گے۔
    (4)  صاحبان ڈپٹی انسپکٹر جنرل اپنے ملاحقوں پر ضلع کے دورہ پر خود اپنے جاری کردہ احکام قائم العمل کی مسلوں کی پڑتال کریں گے۔
باب 56-14:  گروہوں کے خلاف جبر کا استعمال:  
لوگوں کے گروہوں کے خلاف پولیس کی طرف سے جبر کے استعمال کے متعلق ہدایات حسب ذیل ہیں:
  استعمال جبر منجانب  پولیس کلا قانون کے احکام کے تابع ہے اور یہ احکام مجموعہ ضابطہ فوجداری کے باب 5اور باب 9میں بیان کیے گئے ہیں۔  بڑا اصول پیروی یہ ہے کہ واجب الاستعمال جبر کی مقدار ہر واقعہ کے حالات کے مطابق ہوگی۔ استعمال جبر کا مدعانقص امن کو دور کرنا ہے یا ایسے مجمع کو منتشر کرنا ہے جس سے نقص امن واقع ہونے کا خطرہ ہو اور یاتو مجمع نے منتشر ہونے سے انکار کردیا ہو یا اس کے اطوار سے ظاہر ہو کہ اس نے منتشر نہ ہونے کا پختہ ارادہ کرلیا ہے۔
                جن حالات میں فوجی طاقت کا استعمال ضروری ہو جائے ان میں پولیس کی کاروائی:
  کسی پولیس افسر کو خواہ کسی عہدہ کا ہو یہ اختیار نہیں کہ کسی فوجی دستہ کے کمیشن یافتہ کمان افسر سے لوگوں کے کسی ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے جبر استعمال کرنے کا مطالبہ کرے۔کوئی مجسٹریٹ اس قسم کا مطالبہ کرسکتا ہے۔  اگر کوئی گزٹ شدہ پولیس افسر موجود ہو اور کوء یدرجہ اول یا اس سے اعلیٰ درجہ کا مجسٹریٹ موجود نہ ہو تو وہ پالیس افسر خود مختارانہ طور پر مجمع کو منتشر کرنے کا حکم دے گا۔ دیگر حالات میں موجوالموقع سینئر پولیس افسر جس کو افسر انچارج تھانہ کے اختیارات حاصل ہوں اپنی کارروائی کی رپورٹ کرے گا۔ خواہ وہ بحکم مجسٹریٹ عمل کررہا ہو یا نہ۔ جب ایک دفعہ کسی گروہ کو منتشر ہونے ہونے کا حکم دیا جاچکے تو استعمال جبر کے طریقے اور اس کے درجہ کا فیصلہ کرنا موجودالموقع پولیس افسر کا کام ہوگا لیکن اگر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ خود موجود نہ ہو تو اسے ضلعی پولیس کے حاکم اعلیٰ ہونے کی حیثیت میں موجود الموقع سینئیر پولیس افسر تسلیم کیا جائے گا۔ قاعدہ ہذا کی اغراض کے لیے سب ڈویزنل مجسٹریٹ کو اپنے سب ڈویزن کے اندر مجسٹریٹ ضلع کا درجہ حاصل ہوگا یعنی اس سب ڈویزن کے افسران پولیس سب ڈویزنل مجسٹریٹ مجسٹریٹ کو بطور سینئیر پولیس افسر تسلیم کریں گے اور موصوف کو جبر کے طریق اور درجہ کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہوگا۔ (ج) پیشتر اس کے کہ کسی مجمع کو ناجائز قرار دیا جائے اور اس وجہ کی بناء پر اس کو منتشر ہونے کا حکم دیا جائے۔ اس کو بذریعہ تنبیہ و تر غیب ونصیحت وغیرہ منتشر کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی جب ایک دفعہ منتشر ہونے کے حکم کی مخالفت کی جائے یا مجمع کا رویہ صریحاََ مخالفانہ ہو تو بلاتاخیر جبر کا استعمال کیا جائے گا۔ استعمال جبر اس کم ترین حد تک کیا جائے گا جو مناسب احتیاط اور توجہ کے ساتھ غور کرتے ؤئے ذمہ دار افسر کی رائے میں مجمع کو مکمل طور پر منتشر کرنے کے لئے اور حسب خواہش گرفتاریاں عمل میں لانے کے لیے ضروری ہو۔ استعمال جبر حتی الامکان کمترین درجہ اورکمترین عرصہ کے لئے ہوگا۔ اور حسب حالات کمترین مہلک ہتھیار استعمال کیا جائیگا۔  (و)   جب ذمہ دار پولیس افسر کی رائے میں خواہ وہ مجسٹریٹ کے زیر
حکم کام کرہا ہو یا خود مختارانہ آتش فشاں اسلحہ کا استعمال ضروری ہو تووہ مجمع کو متفبہ کرے گا کہ اگر وہ فوراََ منتشر نہ ہوں گے تو ان پر بھرے ہوئے کارتوس چلانا شروع کردیا جائیگا۔ اگر مجسٹریٹ ضلع یا سب ڈویژن میں سب ڈویژنل افسر موجود ہوں تو ہمیشہ جب گولی چلانے کی ضرورت قریب الوقع ہو فوراََ ان کا حکم حاصل کیا جائے گا۔ اگر موجود الموقع پولیس افسر غیر گزٹ شدہ افسر ہوتو وہ ایسے موقع پر سینئر مجسٹریٹ موجودالموقع کا حکم حاصل کرے گا۔
 (ط)   عموماََ مذہبی تہواروں کے موقع پر جلوسوں کی حفاظت کے لیے اسلحہ اتش فشاں سے مسلح پولیس تعینات نہیں کی جائے گی۔ ان کو جلوس کے آگے آگے یا عقب میں رکھا جائے گا جہاں عوام کے ہاتھوں ان میں گڑبڑ پڑنے کا کمترین خطرہ ہو اور کمان افسر اور چھوٹے افسر کے قانو میں رہ سکیں۔ (ی)   جن موقعوں پر ناجائز مجموں کے خلاف اسلحہ آتش فشاں استعمال کیا گیا ہوان میں اگر مجسٹریٹ موجود ہوتو اس کا فرض ہوگا کہ زخمیوں کی خبر گیری کے لئے اور ان کے ہسپتال میں لے جانے کی لئے نیز اگر کوئی مردہ اشخاص کی نعشیں ہوں تو ان کے متعلق مناسب کارروائی کرنے کیلئے کافی انتظام کرے۔
(2)   جن حالت میں فوجی طاقت کا استعمال ضروری ہوجائے ان میں پولیس کی کارروائی مندرجہ ذیل ہوگی:
(الف)   کسی پولیس افسر کو خواہ کسی عہدہ کا ہو یہ اختیار نہیں کہ کسی فوجی دستہ کے کمیشن یافتہ کمان افسر سے لوگوں کے کسی ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے جبرا استعمال کرنے کا مطالبہ کرے۔کوئی مجسٹریٹ اس قسم کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ دفعہ (130مجموعہ ضابطہ فوجداری) اور اتفاقیہ اشد ضرورت کے وقت جب کسی مجسٹریٹ سے مشورہ نہ کیا جاسکے تو باقاعدہ فوج کا کمیشن یافتہ افسر خود فوجی طاقت کے استعمال کرنے کا حکم دے سکتا ہے جب کوئی مجسٹریٹ موجود نہ ہو اور فوج کے آعمی موجود ہوں اور موجودالموقع سینئر پولیس افسر کی رائے میں ان کی امداد حاصل کرنا ضروری ہو تو وہ پولیس افسر باقاعدہ فوج کے موجودلموقع سینئیر کمیشن یافتہ افسر کو صورتحال کی اطلاع دے گا اطلاع یا بندہ فوج کا افسر فیصلہ کرے گا کہ امداد دی جائے یا نہ۔ (ب)  جب لوگوں کے کسی ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے فوجی طاقت کا استعمال شروع کیا جاچکا ہوتو جو جماعت پولیس اس سے پہلے ہجوم کے مقابلے میں کا م کررہی ہو اس کو واپس لے لیا جائے گا تاکہ گڑبڑ واقع نہ ہو۔
(ج)  یادرکھنا ہوگا کہ جب کسی مجمع ناجائز کو فوجی طاقت کے ذریعے منتشر کرنے کا حکم دیا گیا ہو تو موجوالموقع سینئر پولیس افسر اور تمام ارکان پولیس جو اس وقت فوجی طاقت کے رقبہ میں موجود ہوں اس موجودالموقع سینئیر
فوجی افسر کے احکام کے تابع ہوں گے جو عمل انتشار کا انچارج ہو اور اس حد تک اور اس ضروری وقت کے لئے اس کے زیر حکم رہیں گے لیکن آخر الذکر کو فوجی افسر کے لئے لازم ہے کہ جو کچھ کارروائی کرنا ضروری سمجھے اس کے متعلق موجودالموقع سینئیر پولیس افسر سے مشورہ کرے جب سینئیر سول افسر صورت حالات کا انتظام قطعاََ فوجی حکام کے سپرد کرچکے تو وہ جماعت پولیس مکمل طور پر فوجی کنٹرول کے ماتحت ہوجاتی ہے۔
(3)    صرف افسر انچارج تھانہ بروئے دفعہ 551 مجموعہ ضابطہ فوجداری اور اس سے بالا تر عہدہ کے افسران پولیس جب کسی اور پولیس افسر کا کسی مجمع نا جائز سے سابقہ پڑجائے تو اسے فوراََ کسی ایسے مجسٹریٹ یا پولیس افسر کو بلوا بھیجنا چاہیے جسے زیر دفعہ 127مجموعہ ضابطہ عمل کرنے کا اختیار ہو۔ دفعہ 152  ضابطہ فوجداری کی رو سے کسی پولیس افسر کو اختیار ہے کہ جب وہ کسی شخص کو سرکاری مال کو نقصان پہنچانے کا اقدام کرتے ہوئے دیکھے تو اسے روکنے کے لئے مداخلت کرے۔ اور تمام پولیس کو حق حفاظت خوداختیاری حاصل ہے جو ہر شخص کو دیا گیا ہے۔ دفعہ 97 تعزیرات پاکستان سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ ہر ایک شخص کو اور ہر ایک پولیس افسر کوحق حاصل ہے کہ کسی ایسے جرم سے جس کا اثر جس انسانی پر یا کسی دوسرے شخص کے یا اس کے اپنے مال پر پڑتا ہو یا ایسے فعل سے جو ایسا جرم ہوکہ سرقہ، راہزنی، نقصان رسانی یا مداخلت مجرمانہ کی تعریف میں آتا ہو یا جو سرقہ، راہزنی، نقصان رسانی یا مداخلت مجرمانہ کے ارتکاب کا اقدام ہو کسی شخص کے بدن اور نیز اپنے بدن کی محافظت کرے۔ دفعات 103,101,100,99  میں وہ حد ود بتلائی گئی ہیں جہاں حق حفاظت خود اختیاری استعمال کیا جاسکتا ہے اور دفعات 105,102  میں وہ عرصہ بتلا گیا ہے جس کے دوران یہ حق جاری ہے۔
باب 57-14: گورنمنٹ فیملی کوارٹروں یا ان کو نقصان رسانی:
                 جو پولیس افسر گورنمنٹ فیملی کوارٹر زمیں رہتے ہوں وہ اپنے اپنے مکانوں کی صفائی کے سخت ذمہ دار ہوں گے اور ماسوائے اس نقصان کے جو واجبی استعمال کی وجہ سے انہیں پہنچے اگر اور کوئی نقصان خود مکان کو یا اس میں کسی سرکاری مال کو نقصان سابقہ قابض کا پہنچایا ہو۔اگر اس مکان میں رہائش اختیار کرتے وقت اس نے فوراََ ہی معمولی ذریعہ سے اس مکان کو اس وقت تک پہنچائے ہوئے نقصان کی رپورٹ سپرنٹنڈنٹ کو نہ کی ہو۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ قاعدہ ہذا کی تعمیل ہورہی ہے۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ قاعدہ ہذا کی تعمیل ہورہی ہے سپرنٹنڈنٹ پولیس باقاعدہ ملاحظہ جات کیا کریں گے نیز دیکھو قاعدہ 32-3۔
باب 58-14:  چیچک کے خلاف تدابیر:
                  تمام افسران پولیس اور ان کے کنبوں کے افراد اور دیگر اشخاص کو جو سرکاری مکانات میں رہتے ہوں یا ایسے مکانات میں رہتے ہوں جن کا کرایہ گورنمنٹ ادا کرتی ہو مانع چیچک ٹیکہ لگایا جائے گا۔جب:   مرض چیچک وبائی صورت میں پیدا ہوانہ ہو
  (اول)  چھوٹے بچوں کو اگر وہ تندرست ہوں پیدا ئش سے تین مہینے کے اندر ٹیکہ لگانا چاہئے۔ بہر حال بارہ مہینے کے اندر اندر۔
(دوم)  بچوں کے 7سال کی عمر سے پہلے پہلے دوبارہ ٹیکہ لگایا جائے گا اور پھر جب وہ سولہ سال کے ہوجائیں۔
(سوم)  بالغوں کو ہر 7سال کے بعد پھر ٹیکہ لگایا جائے گا۔ (ب)  جب مرض چیچک وبائی صورت میں پھیلا ہواہو۔ تمام اشخاص جن کو گزشتہ 12ماہ میں ٹیکہ نہ لگا یا ہو ان کو ٹیکہ لگا یا جائے گا۔ تمام پولیس افسران کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ بھی حفظ ما تقدم تدابیر اختیار کریں۔
باب 59-14:  افسران پولیس پر حیثیت یا پیشہ ٹیکس لگایا جاسکتا ہے۔ 
 (۱)    صوبائی حکومت نے اپنی چٹھی نمبر 25292مورخہ یکم ستمبر 1928ء میں اطلاع دی ہے کہ ڈسٹرکٹ بورڈ گورنمنٹ کی منظوری سے حیثیت ٹیکس لگا سکتے ہیں۔ شرحات لگان مذکورہ بالا چٹھی
 میں بیان کی گئی ہیں۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جو شخص کسی حسابی سال یعنی یکم اپریل سے اگلے مارچ کی 31 تاریخ تک کے عرصہ میں اس رقبہ میں جو اس ڈسٹرکٹ بورڈ کے ماتحت ہے ایک سو اسی دن سے کم عرصہ رہا ہو تو اس سال کے واسطے کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔
(2)   افسران پولیس بھی جو بعض میونسپلٹوں اور نوٹیفائیڈایرئیوں میں رہائش رکھتے ہیں۔ مستوجب ادائیگی حیثیت ٹیکس ہیں۔ اسی حالت میں افسران پولیس کی صرف اس آمدنی کے لحاظ سے ٹیکس لگایا جاسکتا ہے جو انہوں نے اس خاص میونسپلٹی یا نوٹیفائیڈ ایریا میں رہائش کے دوران میں وصول کی ہو۔
(3)     صاحبان سپرنٹنڈنٹ یہ ٹیکس افسران متعلقہ سے وصول نہیں کریں گے لیکن وہ ایسی فہرستیں بہم پہنچائیں گے جو لوکل باڈیز متعلقہ اس بارے میں طلب کریں۔


باب 15   انعامات
باب 1-15   انعامات کھلے دل سے دئیے جائیں گے۔
   (1)  عوام کی حوصلہ افزائی کیلئے کھلے دل سے انعامات دیئے جائیں گے تاکہ وہ ان فرائض کو بخوبی انجام دیں جو ان پر قانوناََعائد ہوتے ہیں اور فوجداری مقام میں امداد دیں۔ احتیاط رہیے کہ کسی مقدمہ کے اختتام سے پیشتر انعامات نہ دئے جائیں کیونکہ پیشتر انعامات دینے سے مقدمہ کے نتیجہ پر بر اثر پڑتا ہے۔ تاہم بعض حالات میں مقدمہ کے ختم ہونے سے پہلے انعامات دیئے جاسکتے ہیں۔
(2)   ماتحت افسران پولیس کو معمولی روزمرہ کے فرائض درست طور پر انجام دینے کے لئے انعامات نہیں دینے چاہیں بلکہ کارروائی پولیس کی کسی برانچ میں خاص قابلیت کے لئے دینے چاہیئں۔ قابل انعام اوصاف کی تفصیل قاعدہ (1)7-15  میں دی گئی ہے۔
باب 3-15   تعریفی سرٹیفیکیٹ۔
                جب کوئی پولیس افسر یا کوئی اور شخص جو پولیس افسر نہ ہو کسی فوجداری مقدمہ میں تفتیش، گرفتاری، اطلاع  یا  اور کاروئی کرے تو SP   یا بالا افسر تعریفی سرٹیفیکیٹ دے سکتا ہے۔                تعریفی سرٹیفیکیٹ کی ذیل اقسام ہیں۔
    (۱)  سرتیفیکیٹ درجہ اول۔  یہ سرٹیفیکیٹ IGPکسی کار نامے پر عطا کرتے ہیں۔
    (۲)  سرٹیفیکیٹ درجہ دوم:  یہ سرٹیفیکیٹ DIG   عطا کرتے ہیں
    (۳)  اور  سرٹیفیکیٹ درجہ سوئم:  سپرنٹنڈنٹ عطا کرتے ہیں۔
باب 11-15: خرچ متعلقہ تفتیش مقدمات: 
                مقدمات کی تفتیش کا لازمی خرچ جو موجودہ قواعد کے رو سے عدالتوں سے وصول نہ کیا جاسکتا ہو وہ صاحب سپرنٹنڈنٹ کی مد انعامات سے ادا کیا جائے گا جب اسے خفیہ رکھنے کی غرض سے اس قسم کے خرچ کی تصدیق میں فارم نمبر (1)33-10  پر یا ضابطہ واؤچر(رسید) پیش نہ کیے جاسکتے ہوں تو صاحب سپرنٹنڈنٹ فارم نمبر11-15پر خفیہ رجسٹر میں تفصیل یا بندگان کے نام درج کریں گے۔
باب 12-15:  انعام مقررکردہ منجانب اشخاص غیر سرکاری: 
(۱)     تمام عہدوں کے افسران پولیس کو قطعاََممانعت ہے کہ اگر کوئی غیر سرکاری شخص نقد یا کوئی اور انعام ان کو دینے لگے تو نہ لیں لیکن جو انعام نیچے کے ضمنی قاعدہ نمبر 2بعد کے حالات کے مطابق مقرر کیا گیا ہو۔وہ ہر حالت میں صاحب ڈپٹی انسپکٹر جنرل کی منظوری سے اس پولیس افسر کو دیا جاسکتا ہے جو اس کا مستحق ہو۔
 (۲)     جب افراد یا رعایا انعامات مقرر کریں تو صاحب سپرنٹنڈنٹ ضلع متعلقہ مطالبہ کریں گے کہ مقرر کردہ رقم سٹیٹ بینک آف پاکستان یا ڈاک خانہ کے سیونگ بینک میں امانتاََ جمع کرنے کے واسطے داخل کی جائے تاکہ صاحب ممدوح اپنے فیصلہ کے مطابق اور اپنی منصبی حیثیت میں تقسیم کرے۔ صاحبان سپرنٹنڈنٹ اس طرح کے مقرر کردہ انعامات اس غایتی رقم تک جو ازروئے قاعدہ نمبر 5-15  ان کو خود دینے کا اختیار ہے، قبول کرکے تقسیم کرسکتے ہیں۔ اس سے زیادہ رقموں کے انعامات کے اقراروں کو قبول کرنے اور تقسیم کرنے کے لئے اور اس طرح کی کسی اقرار کردہ رقم کے افسران پولیس کو ادا کرنے کے لئے یعنی ان ہر دو امور کے لئے بالا تر حاکم کی منظوری ضروری ہے۔
(۳)    اگر اس طرح کے مقرر کردہ انعام کی رقم پیشگی جمع نہ کی جائے اور اگر وہ مال جس کی برآمدگی کے لئے انعام مقرر کیا گیا تھا۔ پولیس کے ہاتھ لگ جائے تو صاحب سپرنٹنڈنٹ متعلق بشرطیکہ انعام ادا نہ کیا جائے۔ ایکٹ معاہدہ کی دفعہ 168 کے مطابق وہ مال رک رکھا جائے۔
باب 15-15:  انعامات برائے گرفتاری مفروران:
 جو شخص کسی ایسے فرد کو گرفتار کرے گا۔ جو اپنے بیڑے سے بحالت مفروری یا بلا اجازت غیر حاضر ہو۔ ماسوائے ایسے اشخاص کے جو خود بخود گرفتاری کے لئے حاضر ہوجائیں اس کو پانچ روپیہ انعام دیا جائے گا۔
                فوج کے جنگی ملازم (جن میں ریزروی بھی شامل ہیں)۔
ملازمان باربرداری (ٹرانسپورٹ)
ہندوستانی ہسپتال بیڑوں (انڈین یا شپیل کورز) کے ملازم۔ ایسے انعام مفرور کا بیڑا ادا کرے گا۔
(2)   ایسے انعامات کی یادداشت وصول کنندہ افسر پولیس کے اعمال نامہ میں درج کی جائے گی لیکن تعریفی سرٹیفیکیٹ نہیں، جائے گا۔ الا اس حالت میں جب اس خاص گرفتاری کے حالت کو ملحوظ رکھتے ہوئے صاحب سپرنٹنڈنٹ کی رائے میں سرٹیفیکیٹ دینا مناسب ہو۔
باب 16-15:  انعامات برائے برآمدی نعش ہائے: 
(۱)   صوبائی حکومت نے نہروں اور دریاؤں سے برآمد کردہ نعشوں کے متعلق مندرجہ ذیل قواعد در بارہ عطائیگی انعامات منظور فرمائے ہیں۔
 (الف)  پولیس افسران جو سب انسپکٹر یا اس سے بالا تر عہدہ کے ہوں یا جو شخص نہریا دریا سے کوئی نعش نکال کر یا نکلواکر اس گاؤں کے سربراہ کے سپرد کرے گا یا پولیس کے سپر دکرے گا۔ وہ دس روپے انعام کا مستحق ہوگا۔
   (ب)  تمام اہلکاران جب کھبی کوئی نعش کسی نہر میں دیکھیں جس سے ان کا تعلق ہے تو اس نعش کو نکالیں یا نکلوائیں تو ایسے اہلکار دس روپے انعام کے مستحق ہوں گے۔
   (ج)   یہی فرض تمام نمبر داروں، چوکیداروں، پٹواریوں پر اور مالکان وقابضان اراضی اور ان کی گماشتوں یا کارمختاروں پر اور ان تمام افسروں پر جو وصولی مالگزاری پر تعینات ہیں نیز جملہ افسران پولیس پر عائد ہوتا ہے اور جو ایسے اشخاص دریاؤں اور نہروں پر ان کے نزدیک رہتے ہیں ان کی توجہ اس فرض کی طرف خاص طور پر مبذول کی جائے گی اور ان کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ ایسے معاملات میں اس طرح عمل کریں گویا وقوع جرم کے اشتباہ کی وجوہات موجود ہیں۔ سب انسپکٹران پولیس اور اس سے بالاتر عہدوں کے پولیس افسروں کے سوااور سب ایسے اشخاص دس روپے انعام کے مستحق ہوں گے۔
(2)   صاحبان سپرنٹنڈنٹ اس قسم کے انعام فوراََ اپنی مد کنٹجنٹ برائے انعامات ادا کریں گے۔
باب 18-15   مجرمان اشتہاری کی گرفتاری کیلئے انعامات فراخ دلی سے پیش کیا جائے۔
باب 19-15:  تمغہ رائل ہیومیں سوسائٹی: 
جب کوئی پولیس افسر کسی شخص کو غرقابی سے بچانے کیلئے دلیری سے کام کرے تو اس افسر کیلئے عطائیگی تمغہ رائل ہیومین سوسائٹی کی درخواست کی جاسکتی ہے۔اس قسم کی درخواسوں کا مطلوبہ فارم صاحب انسکٹر جنرل کے دفتر سے مل سکتا ہے۔
باب 20-15 :   قائیداعظم اور پریذیڈنٹ پولیس میڈل۔
(۱)    قائد اعظم پولیس میڈل کے متعلق قواعد (1)20-15   الف میں بیان کیے گئے ہیں۔ جن اشخاص کو یہ تمغہ یا اس تمغہ کا بار انعام ملے بشرطیکہ یہ نشان امتیازی بہادری کے کارنامہ کے لئے عطا کیا گیا ہو۔ بہ پابندی شرائط وشرحات مندرجہ ضمیمہ (1)20-15  ب الاؤنس ہائے نقدی کے حقدار ہوں گے۔ بحالت غیر گزٹیڈ افسران سفارشات بمعہ اعمالنامہ کے معرفت ڈپٹی انسپکٹر جنرل (فارم 21-15)  بھیجی جائیں گے اور بصورت شجاعت وقوعہ کے بعد جس قدر جلدی ممکن ہوسکے سفارشات مذکور بھیجی جانی چاہئیں۔ ماسوائے ان حالات کے جن کی بابت سفارش کرنی ہو اس کے حالت شک سے خالی نہ ہوں یا جہاں کے پولیس افسر کے چال
چلن نے پبلک کی نکتہ چینی پیدا کردی ہو جب ایسے شکوک یا نکتہ چینی موجود ہو تو افسران کو چاہیے کہ پیشتر اس کے کہ وہ سفارش کرنے کا فیصلہ کریں خاص احتیاط سے ان کے حالت کی چھان بین کریں۔ یہ خاص طور پر بیان کرنا چاہیے آیا وقوعہ جس کے بابت سفارش کی گئی ہے عدالتی کارروائی کے قابل ہوگا۔ اعلیٰ خدمات کے صلہ میں سفارشات ہر سال ایسے وقت میں ہونی چاہئیں جو 15 مئی اور 15 دسمبر تک انسپکٹر جنرل پولیس تک پہنچ جائیں۔ ہمیشہ بیان کرنا چاہئے کہ جس افسر کی اس نشان امتیازی کی عطائیگی کے لئے سفارش کی گئی ہے آیا اس کو کبھی ملامت کی گئی ہے یا آیا اس کا تعلق کبھی ایسی کارروائی سے تھا جس کو کسی عدالت نے قابل ملامت قراردیا ہو۔
(2)   پریذڈنٹ پولیس میڈل کے متعلق قواعد ضمیمہ (2)20-15  میں بیان کیے گئے ہیں۔ پنجاب کی پولیس کو ہر سال صرف اکیس تمغے عطا کیے جاسکتے ہیں۔ جن خاص افعال یا خدمات کے متعلق سفارشات کی جائیں ان کو اسی فارم پر اسی طرح مفصل بیان کیا جائے گا جیسے قائد اعظم پولیس میڈل کی سفارشات کی حالت میں کیا جاتا ہے۔ ریگولیشن 7(دوم)کے تحت جو سفارشیں کی جائیں انہیں ڈپٹی انسپکٹر جنرل کی معرفت انسپکٹر جنرل کو ہر سال 15مئی اور15دسمبر تک پہنچ جانا چاہیے۔
(3)   افسران گزٹ شدہ کی حالت میں قائد اعظم پولیس میڈل اور پریذیڈنٹ پولیس میڈل کے عطیات کا اندراج ان کی اپنی اپنی سرگزشت ملازمت میں کیا جائے گا۔ تمغہ جات مذکورہ کے تمام یا بندگان کے نام پنجاب سول لسٹ میں شائع ہوتے ہیں۔
(4)   تمام عطیات قائد اعظم اور پریذیڈنٹ پولیس میڈل بحق افسران بھرتی شدہ کا اعلان اس ضلع کے ہیڈکوارٹر میں جس میں یا بندہ عطیہ ملازم ہو پریڈ میں سب کے روبرو کیا جائے گا۔ قائدا عظم میڈل کے ہر ایک یا بندہ کا نمبر، عہدہ اور نام اشاعت عطیہ کے بعد فوراََ فہرست قائد اعظم پولیس میڈل کے تختہ پر سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ (جیسا کہ پنجاب پولیس گزٹ میمونمبر 694 مورخہ 11مارچ 1927ء میں مقرر کیا گیا ہے۔) کوائف عطیہ جیسے کہ پنجاب گزٹ میں شائع کیے گئے ہوں یا بندہ کے اعمال نامہ میں نقل کئے جائیں گے۔ نیز”قائد اعظم پولیس میڈلسٹ“ بڑے حروف میں یا بندہ کے اعمال نامہ کے بیرونی گردش پوش پر لکھا جائے گا۔ قائد اعظم پولیس میڈل کے عطیات کی خاص قدر شناسی کے متعلق مزید ہدایات قاعدہ 19-13 میں بیان کی گئی ہیں۔


باب 17  عملہ ہیڈ کوارٹر ز و ریزرو ہائے
باب 4-17:  کو ت ہیڈ کنسٹیبل کے فرائض:
 لائن افسر کی ذمہ داری اور احکام کے تحت کوت ہیڈ کنسٹیبل تمام سرکاری مال اسلحہ،خیمہ جات اور دیگر گوداموں کا انچارج ہوگا۔ ماسوائے جیسا کہ قاعدہ 6-17  میں حکم وضع کیا گیا ہے۔
باب 5-17:  فرائض محرر پارچات وسازو سامان:  
 لائن افسر کے احکام اور ذمہ داری کے تابع محرر ہیڈکنسٹیبلان کو جو لائن میں پارچات اور سازوسامان سے متعلقہ ڈیوٹیوں کے لیے منظور کیے ہوں لازم ہوگا کہ وہ پارچات اور سازوسامان سے متعلق تمام رجسٹر قائم کریں اور سازوسامان کے گوداموں کی ترتیب اور اچھے انتظام کے ذمہ دار ہوں گے۔
باب 6-17:  محرر لائن کی فرائض:
  زیر احکام وپابندی ذمہ داری لائن افسر محرر معمولی خط و کتابت اور رجسٹرات کے مرتب رکھنے کا ذمہ دار ہوگا۔ماسوائے ان رجسٹر ہائے مال سرکاری کے جو کوت ہیڈ کنسٹیبل اور محرر پارچات و سازو سامان کے ذمہ ہیں باقی تمام رجسٹروں کا مرتب رکھنا اس کا فرض ہے۔ ان فرائض میں ایسے اور محرران اس کی امداد کریں گے جو حاکم مجاز وقتاََ فوقتاََ منظور کرے۔
باب 7-17:  رجسٹر ہائے لائن:  
(i)    لائن میں دو زبانوں میں درجہ ذیل رجسٹر مرتب رکھے جائیں گے یعنی:
  (ii)   فہرست افسران پولیس متعینہ ہیڈکوارٹر یہ فارم (1)7-17   پر ان تمام بھرتی شدہ پولیس افسران کے لئے جو ہیڈکوارٹر سے وابستہ ہوں۔ یہ رجسٹر مندرجہ ذیل حصوں میں منقسم ہوگا اور ہر عہدہ کے لئے الگ صفحے مخصوص کئے جائیں گے۔
حصہ اول۔   اس میں ماسوائے ان افسران کے جو حصص دوم یا پبجم میں شامل کئے گئے ہیں باقی سب ایسے افسران درج کیے جائیں گے جو سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں اور عدالتی ڈیوٹیوں پر نیز جو ضلع کے ہیڈ کوارٹر میں تعینات ہیں۔ جو افسران رخصت پر جائیں ان کے نام قلم زن نہیں کئے جائیں گے بلکہ صرف خانہ کیفیت میں ان کی نسبت یا دداشت تحریر کی جائے گی۔
حصہ دوم۔  افسران زیر تربیت آمد ہ تھانہ جات کے لیے۔
حصہ سوم۔ ان افسران کے لئے جو دوم یا سوم ریزرہ کے لئے اجتماع جیسے موقعوں پر دیہاتی ڈیوٹیوں سے عارضی طور پر واپس بالئے جائیں۔ (قاعدہ 10-17و11-17وغیرہ)
حصہ چہارم۔ ملازمان شاگرد پیشہ متعینہ ہیڈکورٹر کے لئے۔
حصہ پنجم۔  افسران متعینہ اول مسلح ریزرو کے لئے۔ اردو قبض الوصول جن کی نسبت قاعدہ 90-10  میں حکم دیا گیا ہے۔ اس رجسٹر سے تیار کیے جائیں گے۔
(iii)   رجسٹرڈیوٹی فارم (2)7-17پر ایسی تمام ڈیوٹیوں کے لئے جو ہیڈ کورٹر سے وابستپ بھرتی شدہ افسران انجام دیں۔ یہ رجسٹر مندرجہ ذیل حصوں اور ضمنی حصوں میں رکھا جائے گا۔
حصہ اول۔ مستقل ڈیوٹیاں۔  (الف) دفتر پولیس جس میں عدالتی ڈیوٹیاں بھی شامل ہیں۔ (جس ڈیوٹی پر لگایا جائے اس کی نوعیت خانہ کیفیت میں لکھی جائے گی)  (ب) گاردخزانہ۔
(ج) گارد میگزین۔(د) گاردات ذاتی۔ ہر ایک کے لئے علیحدہ علیحدہ صفحات مختص کیے جائیں گے۔ (ہ) عملہ لائن (قاعدہ 1-17) جس ڈیوٹی پر لگایا جائے گا اس کی نوعیت خانہ کیفیت میں
نوٹ۔ جو افسران پولیس ایسی ڈیوٹیوں پر تعینات کیے جائیں جو صوبہ کی چھاپہ شدہ تقسیم میں انسپکٹر جنرل سے منظور شدہ نہیں ہیں ان کو اس حصہ میں دکھایا نہیں جائے گا بلکہ حصہ دوم کے ایک علیحدہ ضمنی حصہ موسوم (م)متفرق تبدیل پذیر ڈیوٹیوں میں درج کیا جائے گا۔
حصہ دوم۔ تبدیل پذیر ڈیوٹیاں۔ (۹)  لائن کا ٹریننگ اسکول۔(ی) ریکروٹ۔(تفصیل خانہ کیفیت میں درج کی جائے گی)۔ (ک) تمام اقسام کے اسکورٹ۔(ل) خاص ڈیوٹی۔ (م)دیگر تبدیل پذیر متفرق ڈیوٹیاں جن میں اشخاص متعینہ سہار بھی دکھلائے جائیں گے۔
(14)   رجسٹر وصولیات وتقسیمات عارضی فارم 19-5 جس میں وہ متفرق مال سرکاری درج کیا جائے جو عارضی طور پر موصول یا تقسیم کیا جائے۔
(15)  کیش بک (کتاب حساب نقدی) فارم 52-10  (الف)و(ب) پر مطابق قواعد 108-10,52-10  اس کے مندرجہ ذیل دو الگ الگ حصے ہوں گے۔ (الف) نقدیات دیگر مثلاََ عدم تقسیم تنخواہ سفر خرچ وغیرہ۔ (ب)مستقل پیشگی محررلائن بذات خود کیش بک مرتب رکھے گا اور اس کے سلسلہ میں اور بحیثیت اکاؤنٹنٹ اس کے فرائض اور ذمہ داریاں کسی دوسرے افسر کو تفویض نہیں کی جائیں گی۔ لائن افسر ذمہ
دار ہے کہ لائن کی کیش بک درست رکھی جائے اور وہ تمام رقومات کی جو سازوسامان، پارچات، ذخائر جنگی وغیرہ کی بابت وصول ہوں۔ تفصیل اکاؤنٹس افسر کے پاس بھیجنے سے پہلے اس کتاب میں درج کرائے گا۔ آخر الذکر کو افسران نقدیات کے وصول ہونے پر فارم (1)14-10  پر رسیدات جاری کرے گا۔
(16)  رجسٹر سرٹیفیکیٹ راہداری فارم 17-10پر۔
(17)  رفسٹر رسیدات فارم (2)4-10  پر۔
(18)    روزنامچہ لائن دو پرتہ فارم (1)48-22  اس میں وہ ڈیوٹیاں بیان کی جائیں گی جو لائن میں موجود افسران سر انجام دیں۔ مال ونقدیات کی وصولی اور روانگی اور قواعد 49-22,48-22  میں ہدایت کردہ امورات جہاں تک وہ لائن پر حاوی ہوں نیز ایسے دیگر معاملات جن کی نسبت سپرنٹنڈنٹ سالانہ اس کی نظر ثانی کرے گا۔
(19)  کتاب روئداد برائے افسران گزٹ شد ہ۔ اس کتاب میں تمام معاملات متعلقہ ذخائر، رجسٹرات، عمارات اور تربیت وغیرہ جن کے لئے ریزرو انسپکٹر یا لائن افسر کی توجہ ضروری ہو اور ملاحظہ جات پڑتال ہائے منجانب گزٹ شدہ افسران کے نتائج درج کیے جائیں گے۔ رجسٹر ہذا متسقلا محفوظ رکھا جائے گا اور اسے لائن سے باہر نہیں نکالا جائے گا۔
(20)   رجسٹر خط وکتابت فارم 55-22 پر۔
(21)  لائن کے رجسٹر اُن کے بالمقابل درج شدہ عرصوں کے بعد تلف کردئے جائیں گے۔ (1) قواعد 2-(18),(3)7-17  سال۔
(2)قواعد۔ 3-(16),(13),7-17  اور 3-(16) سال (3)قواعد۔(4)7-17تا5(9) سال(4) قواعد(15)7-17اور 6(16)سال (5)قواعد (12),(11),(1)7-17  اور 7(14)سال۔
باب 8-17:  رات کے وقت گنتی: 
سپرنٹنڈنٹ کے مقررکردہ وقت  ہررات کو گنتی ہو کرے گی۔گنتی میں لائن میں رہنے والے پولیس افسران حاضر ہوں گے۔ گنتی کے بعد اگلے دن کے احکام اور عام قسم کے وہ نئے احکام جو سپرنٹنڈنٹ پولیس جاری کریں پڑھ کر سنائے جائیں گے۔
باب 17-17:  طعام خانہ: (مس)   
(1)   سپرنٹنڈنٹ لائن میں اور بڑے بڑے تھانوں میں خصوصاََ شہروں اور چھاؤنیوں میں طعام خانے قائم کرنے اور ان کو جاری رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ یہ لنگر باہمی امداد پر مبنی ہوں گے۔ ان کا مقصد ماتحتان ادنیٰ کو لائن سے باہر کے مقابلہ میں کم خرچ خوراک بہم پہنچانا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔
(2)     حتی الامکان ان طعام خانوں کا انتظام ملازمین پولیس کے اپنے ہاتھوں میں ہوگا۔ تمام طعام خانوں میں مفصل قواعد، فردات خوراک وفہرست ہائے قیمت مرتب کرکے لگائی جائیں گی۔ قواعد میں لکھا جائے گا کہ انتظامی عملہ ممبران میں سے مقرر کیا جائے گا۔ افسران گزٹ شدہ طعام خانوں میں ذاتی دلچسپی رکھیں گے۔ ان کی ترقی میں حوصلہ افزائی کریں گے۔ بے قاعدگیوں کو رد کردیں گے اور قیمتیں کم رکھیں گے نیز بالا صرار تاکید کریں گے کہ طعام خانوں کی عمارت اور برتن نہیایت صاف ستھرے رکھے جائیں۔
باب 19-17:  بیڈ ہیڈ ٹکٹ:
 (1)  سپرنٹنڈنٹ میڈیکل افسر انچارج ہسپتال پولیس کے استعمال کیلئے فارم (1)19-17بیڈ ہیڈ ٹکٹ مہیا کریں گے۔
(2)   ہر ایک پولیس افسر ہسپتال سے ڈسچارج ہونے پر لائن افسر کو اور اگر کوئی پولیس افسر پولیس کے ہسپتال کے سوا کسی اور ہسپتال میں زیر علاج رہا ہو تو افسر انچاج متعلق کو ڈیوٹی کیلئے حاضری کی رپورٹ کرے گا۔اور اپنا ہسپتالی ٹکٹ اس کے حوالے کرے گا۔وہ افسر اس ٹکٹ کو فرد علاج معالجہ میں اندراج کرنے کے لئے سپرنٹنڈنٹ کو ارسال کرے گا۔ اس کے بعد ہسپتال ٹکٹ ہسپتال میں داخل دفتر کردیا جائے گا۔
باب 22-17:  خاص خوراک کے خرچ کی ادائیگی: 
جب ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر یا کوئی میڈیکل افسر کسی ہیڈ کنسٹیبل یا کنسٹیبل کی صحت کے فائدہ کیلئے کسی ایسی خاص خوراک کا حکم دے جس کی نسبت واجباََیہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس کا خرچ اپنی جیب سے ادا کرے تو لائن افسر ضروری خوراک بہم پہنچائے گا اور اس کا خرچ اپنی مستقل پیشگی سے ادا کرے گااور ساتھ ساتھ روزانہ خرچ کا حساب رکھتا جائے گا۔لائن افسر یہ حساب بمعہ رسیدات وقتاََ فوقتاََ ریزرو انسپکٹر کی معرفت جن ضلعوں میں ریزرو انپکٹر مقرر ہے سپرنٹنڈنٹ کے روبرو پیش کرے گا۔ سپرنٹنڈنٹ کو اختیار ہے کہ اس قسم کا خرچ اپنے مصارف سائیر خرچ زیر ضمنی مد”متفرق“ سے ادا کردے۔ اس حکم کی انگریزی اور اردو نقل ہر ایک پولیس ہسپتال میں لٹکائی جائے گی۔



باب   18  گاردات واسکورٹ
باب 5-18:  مستقل گارد کی روزمرہ کی کارروائی: 
(1)    ہر صبح طلوع آفتاب کے وقت تمام گارداباوردی ہتھیار لیے ہوئے قطار بند ہوگی اور کمان افسر نہایت غور سے اچھی طرح اس کا ملاحظہ کرے گا جب کمان افسر دیکھ لیں کہ سب اہالیان گارد موجودہیں اور ہتھیار گولی بارود اور سامان مکمل درست ہے۔تو گارد کو ہتھیار اور سامان صاف کرنے کے لئے اور چستی سے باوردی کمر بستہ ہونے کے لئے ڈسمس کیا جائے گا۔ پونے گھنٹے کے بعد پھر قطار بند ہوگا۔ اس کا نہایت غور سے ملاحظہ کیا جائے گا۔احکام پڑھ کر سنائے جائیں گے۔ ڈیوٹیاں لگائی جائیں گی اور گارد کو اسلحہ کی مشق کرائی جائے گی۔ اس کا نہایت غور سے ملاحظہ کیا جائے گا۔ احکام پڑھ کر سنائے جائیں گے، ڈیوٹیاں لگائی جائیں گی اور گارد کو اسلحہ کی مشق کرائی جائے گی۔ تمام آخرالذکر کارروائی پندرہ منٹ تک جاری رہے گی۔ اس کے بعد گرمی کے موسم میں چھ بجے شام تک اور سردیوں میں پانچ بجے شام تک افسر انچارج گارد کے صرف چہارم حصہ کو ایک وقت پر زیادہ سے زیادہ گھنٹے کے لئے مقام گارد کے نزدیک ترین پڑوس سے باہر جانے کی اجازت دے سکتاہے۔ اس کے سوا اور سب اوقات پر تمام گارد حاضر رہے گی۔ اسلحہ“ریٹریٹ“ کے وقت تقسیم کیے جائیں گے اور اس وقت سے لے کر گارد کے صبح کے ملاحظہ تک اہالیان گارد کے پاس رہیں گے
(2)   سنتری اور اس کا اگلا بدلی کرنے والا دن رات وردی پہنے اور کمر کسے رہے گا۔ دن کے وقت اگلا بدلی کرنے والا گارد کمرہ کے باہر سنتری کے نزدیک بیٹھا رہے گا۔            
  (3)  گارد کا کمان افسر ہر روز اندھیرا ہونے سے پہلے دو گھنٹے وردی پہنے اور اس عرصہ میں خود سنتریوں کو پہرہ پر کھڑا کرے گا۔اور ان کی بدلی کریں گے۔ تاہم کمان افسر جگانے کے بگل Revale    اور شام کے بگل  Retreat  کے درمیان کم ازکم چار دفعہ اور رات کے وقت بدلیوں کے درمیان ایک دفعہ سنتریوں کو جاکر دیکھے گا اور اس وقت وہ باوردی کمر کسے ہوئے ہوگا۔
(4)   جب کمان افسر کی امداد کے لئے کوئی ہیڈ کنسٹیبل یا اس سے بالاتر عہدہ کا افسر تعینات ہو تو ان میں سے ہر ایک آدھے د ن اور آدھی رات کے لئے وردی پہنے ہوئے ڈیوٹی پر رہے گا اور ان دونوں میں سے کوئی ایک تمام سنتریوں کو کھڑا کرے گا۔ اس کے علاوہ مذکورہ بالا ضمنی قاعدہ (3)  کے مطابق سنتریوں کو جاکر دیکھے گا۔
(5)   گارد روزانہ بدلی نی کی جائے تو تو گارد کیلئے چار کنسٹیبل دئے جائیں گے اور تین گھنٹے بعد ڈیوٹی کے بدلی
 کی جائے گی۔اور وہ چوبیس گھنٹہ میں دو ڈیوٹیاں دے گا جہاں گاردات کی روزانہ بدلی ممکن ہووہاں ہر ایک مقام پہرہ کے لئے تین سنتری دئیے جائیں گے اور ہر ایک سنتری دودو گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد بدلے جائیں گے لیکن ایسی حالتوں میں کسی کنسٹیبل کو سٹینڈنگ گارد کی ڈیوٹی پر دو دن متواتر نہیں لگا یا جائے گا۔ ذاتی گاردات (قاعدہ (1)20-18  کی بدلی بالعموم روزانہ ہواکرے گی اور اس حالت میں سنتریوں کی بدلی دودو گھنٹے کے بعد کی جائے گی۔ تمام گاردصرف رات کے وقت نو گھنٹے دیوٹی دے گی۔
(6)   جب گارد صرف افسران گشت کے ملاحظہ کے لئے رات کو قطار بند ہو تو ڈیوٹی والا ہیڈ کنسٹیبل اور اگلا بدلی کرنے والا بارودی کمر کسے ہوئے قطاربند ہوں گے۔ گارد کے باقی آدمی بغیر وردی کے ہتھیار لیے ہوئے قطار بند ہوں گے۔ ملاحظہ کنندہ افسر اپنی تسلی کرے گا کہ پوری تعداد حاضر ہے اور افسران پولیس ڈیوٹی کے قابل ہیں۔
(7)   ایک فہرست ڈیوٹی پر ہر ایک مستقل گارد ے لیے رکھی جائے گی جس میں گارد کے ہر ایک آدمی کے لئے خاص گھنٹے باری سے مقرر کیے جائیں گے۔ اس فہرست ڈیوٹی میں جو اندراج کیا جائے جب تک کہ وقت اور ڈیوٹی کی باری میں اگر کوئی تبدیلی کرنی ضروری ہو تو فہرست ڈیوٹی میں نیا اندراج کیا جانا چاہیے۔
(8)   روزمرہ کی کارروائی کے احکام کی ایک نقل بزبان اوردو ہر اس گارد جو ان احکام کے تحت ہو کہ تختہ احکام پر چسپاں کی جائے گی۔
باب 19-18:  جناب گورنر صاحب کی سرکاری وغیر سرکاری آمد وروانگی:  
گورنر پنجاب سرکاری طور پر لاہور میں وارد ہوں یا لاہور سے روانہ ہوں تو ایسے تمام موقعوں پر صاحب انسپکٹر جنرل حلقہ متوسط۔ صاحب AIGگورنمنٹ ریلوے پولیس اور صاحب سینئر SSPلاہور اسٹیشن موجود ہوں گے۔لاہورجنکشن اسٹیشن سے غیر سرکاری روانگی کے موقعوں پر صاحب سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس لاہور یا ان میں کوئی موجودالوقت گزٹ شدہ افسر حاضر رہے گا۔ الااس حالت میں جب ان کے پاس ہدایات بالعکس منجانب صاحب پر سیکرٹری پہنچ جائیں۔ لاہور کے سوا دیگر مقامات میں اسی قسم کے موقعوں پر مذکورہ بالااحکام میں درج شدہ ضابطہ کے حتی الاطلاق تعمیل کی جائے۔
باب 20-18:  گاردات ذاتی: 
 (۱)  ذاتی گاردات میں جو صرف رات کے وقت ڈیوٹی دیتے ہیں بالعموم ایک ہیڈ کنسٹیبل اور تین کنسٹیبل
                 ہوں گے ہیڈکوارٹر میں ذاتی گاردات صرف آئی جی وصاحبان ڈپٹی کمشنر اضلاع کیلئے مہیا کی جائیں۔
   (2)  جب ہائی کورٹ کا جج یا کوئی ممبر وغیرہ سفر پر ہوں تو ایس پی ضلع مذکورہ گارد مہیا کرے گا۔اور تین کنسٹیبل بطور گارد مہیا کرے گا۔ بشرط یہ کہ پہلے اسے اطلاع مل جائے کہ اتنا عرصہ کے لئے گارد مطلوب ہوگی۔ گارد کا مہیا کرنا اس صورت میں بند کردیا جائے گا مذکور بالا افسران میں سے کوئی ایسی خواہش کا اظہار کرے۔بشرطیکہ گارد کا واپس لے لیا جانا اس کے تحفظ کے ہم آہنگ ہو۔
(3)   (اول)   ایس پی ایک ہیڈکنسٹیبل اور چار فٹ کنسٹیبلان پر مشتمل ایک ذاتی گارد صدر کے وزراء کی کونسل کے ممبران اور وزراء کے لئے مہیا کرے گاجب تک کہ وہ اس کے ضلع میں قیام پذیر رہیں اور ان کے آرام اور حفاظت کے لئے انتظامات جو مقامی حالت کے مطابق ہونی چاہیئں ضلع میں ان کی آمدورفت پر کرے گا۔ خواہ وہ بذریعہ ریل، سڑک جہاز سفر کریں اور ان کے قیام کے دوران میں بھی ایسے انتظامات ہونے چاہیئں (دوم)اگر صدر کے وزراء کی کونسی ممبران یا پنجاب کے وزراء ضلع میں قیام کے دوران سپیشل گاڑی میں رہائش پذیر ہیں تو ذاتی گارد جو اوپر کے تحتی پیر سے مہیا کی جانی تھی ان کی سپیشل گاڑی پر دیا کی جائے گی۔ (سوم)ذاتی گارد کا مہیا کرنا بند کردیا جائے گا اگر کوئی ممبر ایسی خواہش کرے۔ بشرگیکہ ایسی گارد کا بند کرنا ان کی حفاظت سے ہم آہنگ ہو۔
(4)   جب کوئی افسر جو کہ ذاتی گارد کا مستحق ہو پہاڑی مقام پر فرائض کی انجام دہی کے لئے جائے یا ایک وقت پر دس دن کے لئے اس سے زیادہ دن کے لئے کسی قسم کی رخصت پر جائے تو اس کی گارد واپس بلائی گی۔ ذاتی گاردات مکانات یا جائداد کے حفاظت کے لئے نہیں بلکہ ایسی اغراض کے لئے چوکیدار رکھنے چاہیئں۔
(5)    اگر ڈپٹی کمشنر چاہے تو اپنی گارد کو دورہ پر ہمراہ لے جاسکتا ہے لیکن اس کی مقررہ گارد کے علاوہ کوئی فالتو آدمی مہیا نہیں کیا جائے۔
(6)    اگر ڈپٹی کمشنر کا خیال ہو کہ کسی افسر کے لئے جو بالعموم پولیس گارد کا مستحق نہیں اس کی ذاتی حفاظت کے لئے یا سرکاری روپیہ کی جو براہ راست اس کی تحویل میں ہو، کی حفاظت کے لئے عارضی طور پر ہیڈ کورٹر میں یا دورہ پر گارد کی ضرورت ہے تو وہ ایس پی کے ساتھ مشورہ کرکے ایسی گارد کا عارضی انتظام کرسکتا ہے اور ایس پی فوراََ اس امر کی اطلاع ڈی آئی جی کی معرفت انسپکٹر جنرل کو ارسال کرے گا۔
جب کوئی افسر پولیس کی گارد کا مستحق ہو تو اس کی گارد کے رہائشی مکانات کا انتظام سرگاری خرچ پر کرنا ہوگا۔
نوٹ:۔ کوئی ڈسٹرکٹ و سیشن جج جو کسی ایسے ضلع کے ہیڈ کوارٹر پر دورہ یا گشتی سفر پر ہو جو اس کے علاقہ اختیار میں واقع ہو لیکن جو ہیڈکوارٹر نہ ہوگا گارد کا مستحق ہوگا۔ بشرطیکہ ایس پی کو باضابطہ اطلاع بروقت مل جائے۔
باب 22-18:  اسکورٹ مہیا کرنے کیلئے درخواست: 
                 اگر پولیس کی اسکورٹ ضلع کے اندر ڈیوٹی کیلئے مطلوبہ ہو تو اس کیلئے جمعہ اور تعطیلات کو چھوڑ کر پورا ایک دن پیشتر اور اگر ضلع کے باہرمطلوب ہو تو پورے چار دن پیشتر درخواست پہنچ جانی چاہے۔تاکہ ایس پی گارد کی بہم رسانی کا انتظام کرسکیں اور بدلی کرنے والے ضلوں کے ایس پی صاحبان کو بدلی کا انتظام کرنے کے لئے اطلاع دے سکیں۔
باب 34-18: جیل خانہ جات کے  قیدیوں کا تبادلہ:
  جب جیلر اور گارد پولیس کی انچارج کی موجودگی میں قیدیوں کی تلاشی لی جاچکے تو پولیس گارد کے حوالے کیا جائے گا۔قیدیوں کی ہمراہ معمولی فارم پر ان کا اسم نامہ بھی سپردکیا جائے گامنزل مقصود پر پہنچ کر قیدیوں کو حکام جیل کے سپردکیاجائے گا۔ اور رسید لی جائے گا اسکورٹ کا کمان افسر قیدیوں کو وصول کرنے سے پہلے اپنی تسلی کرلے گا کہ ہتھکڑیاں اور بیڑیاں درست حالت میں ہیں اور ٹھیک لگی ہوئی ہیں۔ اگر قیدی بیباک اور خطرناک ہوں تو اسکورٹ کے کمان افسر کو دو حلقوں والی زنجیر اور مضبوط تالا دیا جائے گا جن سے وہ ان قیدیوں کی ہتھکڑیوں یا بیڑیوں کو پیوست کرے گا۔
باب 35 -18   بعض حالات میں بیڑیاں استعمال نہیں کی جائیں گی۔ 
(1)    قواعد جیل خانہ جات کی رو سے جب کوئی قیدی مرد جو کسی جرم میں سزا بھگت رہا ہو کسی غرض کے لئے جیل خانہ سے لے جایا جائے تو اسے ہتھکڑی لگائی جائے گی اور اگر تبدیل کیا جارہا ہو تو اسے بیڑی بھی لگائے جائے گی۔ سوائے جب کہ قیدی ضعیف یا میڈیکل تصدیق ہوجائے کہ وہ اس قابل نہیں ہے تو ایسے قیدی کو ہتھکڑی نہیں لگائے جائے گی۔
(2) ریل کے ذریعے سفر کرنے والے قیدیوں کی بھی ایک ہاتھ کی ہتھکڑی کھولی جاسکتی ہے کہ قیدی کچھ کھا پی رہے ہوں تو یا رفو حاجت کیلئے جارہے ہوں تو ان کی ایک ہاتھ کی ہتھکڑی کھولی جائے گی۔ لیکن ایک وقت پر جن قیدیوں کے ساتھ یہ روایت کی جائے گی ان کی تعداد اسکورٹ کے کنسٹیبل کی تعداد کے نصف سے زیادہ نہیں


2 Comments: